اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 94 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 94

۹۴ بعض اور جماعتوں میں بھی تھے ) اور میں مبالغہ سے نہیں کہتا بلکہ ایک حقیقت بیان کرتا ہوں کہ میرے الفاظ کو وہ پیما نہ میسر نہیں ہے جس۔ان بزرگوں کی محبت کو ناپا جاسکے۔مگر ایک ادنی مثال یوں کبھی جاسکتی ہے کہ جس طرح ایک عمدہ انسفنج کا ٹکڑا پانی کو جذب کر کے پانی کے قطروں سے اس طرح بھر جاتا ہے کہ اسفنج اور پانی میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا۔اور نہیں کہہ سکتے کہ کہاں پانی ہے اور کہاں اسفنج۔اسی طرح ان پاک نفس بزرگوں کا دل بلکہ ان کے جسموں کا رواں رواں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت سے لبریز تھا۔مجھے خوب یاد ہے اور میں اس واقعہ کو بھی نہیں بھول سکتا۔کہ جب ۱۹۱۶ء میں مسٹر والٹر آنجہانی جو آل انڈیا وائی ، ایم سی ، اے کے سیکرٹری تھے۔اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق تحقیق کرنے کے لئے قادیان آئے تھے۔انہوں نے قادیان میں یہ خواہش کی کہ مجھے بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے صحابی سے ملایا جائے اس وقت منشی اروڑا صاحب مرحوم قادیان میں تھے۔مسٹر والٹر کو منشی صاحب مرحوم کے ساتھ مسجد مبارک میں ملایا گیا۔مسٹر والٹر نے منشی صاحب سے رسمی گفتگو کے بعد یہ دریافت کیا کہ آپ پر جناب مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا۔منشی صاحب نے جواب دیا کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا۔مگر مجھ پر جس بات نے سب سے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی۔جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانت دار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔باقی میں تو ان کے منہ کا بھوکا تھا۔مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں ہے۔یہ کہہ کر منشی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں اس قدر بے چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔