اصحاب احمد (جلد 4) — Page 93
۹۳ شمع مسیح کے زندہ جاوید پروانے منشی صاحب مرحوم ان چند خاص بزرگوں میں سے تھے۔جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاص بے تکلفانہ تعلق تھا۔کپورتھلہ کی جماعت میں۔ہاں وہی جماعت جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں سے یہ مبارک و وحید سند حاصل کی ہے کہ خدا کے فضل سے وہ جنت میں بھی اسی طرح آپ کے ساتھ ہوگی۔جس طرح وہ دنیا میں ساتھ رہی ہے۔تین بزرگ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اعنی حضرت میاں محمد خاں صاحب مرحوم و حضرت منشی اروڑا صاحب مرحوم اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم۔یہ تینوں بزرگ حقیقۂ شمع مسیحی کے جانثار پروانے تھے۔جن کی زندگی کا مقصد اس شمع کے گرد گھوم کر جان دینا تھا۔انتہا درجہ محبت کرنے والے۔انتہا درجہ مخلص۔انتہا درجہ وفادار۔انتہا درجہ جاں نثار۔اپنے محبوب کی محبت میں جینے والے جن کا مذہب عشق تھا۔اور پھر عشق اور عشق میں ہی انہوں نے اپنی ساری زندگیاں گزار دیں۔کیا یہ لوگ بھی کبھی مر سکتے ہیں؟ ہرگز نمیرد آن که دلش زنده شد بعشق بر جریده عالم دوام ما مثبت است ایک یورپین سے حضرت منشی اروڑے خاں صاحب کی ملاقات کا نظارہ میں نے مرحوم محمد خاں صاحب کے علاوہ باقی دونوں اصحاب کو دیکھا ہے اور ان کے حالات کا کسی حد تک مطالعہ بھی کیا ہے۔( یہ یادر ہے کہ اس جگہ صرف کپورتھلہ کی جماعت کا ذکر ہے ورنہ خدا کے فضل سے بعض دوسری جماعتوں میں بھی اس قسم کے فدائی لوگ پائے جاتے تھے۔جیسے کہ مثلاً سنور میں حضرت منشی محمد عبداللہ صاحب مرحوم تھے اور اسی طرح