اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 97 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 97

۹۷ (۸) احباب سے محبت ایک روز آپ اپنے مکان کے صحن میں قرآن کریم کا درس دے رہے تھے کہ شیخ عبدالرزاق صاحب برادر زادہ مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب مالک بمبئی ہاؤس لاہور بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے ولایت سے آئے حضور اٹھ کر اُن سے گلے ملے اور بڑی محبت سے خوش طبعی سے فرمایا کہ آپ لندن کا حج کر آئے ہیں آپ سے بھی معانقہ کر لیں (مفہوم)۔۔۔میرے ایک عریضہ کے جواب میں تحریر فرمایا: دو میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔مجھے کبھی شوق نہیں ہوا کہ میں کسی کا علاج کروں۔(۹) دوسروں کو خدمت کا موقعہ دینا آپ کا کھانا حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی طرف سے آیا کرتا تھا۔ایک شام کھانا آیا۔تو اس میں شامی کباب بھی تھے۔حضور نے ایک روٹی پر شامی کباب رکھ کر سید عابد علی صاحب بد و ملهوی کو دی۔انہوں نے یہ روٹی اور کباب مجھے دے دیئے میں نے اس تبرک میں سے کچھ کھایا۔اور بقیہ سید صاحب کو واپس کر دیا۔انہوں نے دیگر احباب میں یہ تبرک تقسیم کر دیا۔غالبا ۱۹۰۸ء میں خاکسار قادیان آیا۔میرے پاس زیادہ روپیہ نہ تھا۔میں نے چند پیسوں کے کیلے بٹالہ سے خریدے۔مگر یہ کیلے تازہ نہ تھے۔بلکہ سیاہ رنگ کے ہو چکے تھے اور تھے بھی چھوٹے چھوٹے۔وہی لے کر شرمندہ شرمندہ حضرت خلیفہ اول کے حضور پہنچا۔جب یہ کیلئے پیش کئے اور دل ہی دل میں خوف زدہ ہو رہا تھا کہ حضور شاید نا پسند کریں گے۔مگر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کہ حضرت نے خوشی سے لے کر کھانے شروع کر دئے۔ایک یا دو حضور نے میرے سامنے کھائے اور باقی اپنے پاس رکھ لئے۔الحمد لله ثم الحمد لله محترم شیخ فضل احمد صاحب اس میں لکھتے ہیں کہ اس قسم کی محبت اور بات سے نوجوان عاشق و شیدا ہو جاتے ہیں۔آگے حصہ خط کا پڑھا نہیں جاتا۔(فضل احمد )