اصحاب احمد (جلد 3) — Page 96
۹۶ کہ کھڑے ہوئے احباب کے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ہمیں آپ تک پہنچنے میں قریباً ایک گھنٹہ لگ گیا۔جب ہم دونوں آپ کے پاس پہنچے تو بابو صاحب کو دیکھتے ہی آپ نے پوچھا کہ آپ کے مزاج اچھے ہیں۔اتنے میں کوئی دوست سنگترے لایا۔فرمایا کہ اتنے سنگترے بیوی صاحبہ ( یعنی حضرت ام المومنین ) کو بھیج دیئے جائیں اور کچھ اندر زنانہ میں۔اور ایک سنگترہ مجھے دیا۔جس سے میں نے سمجھا کہ حضور کو میرے حال پر توجہ ہے۔(۷) الحُبّ والبغض لله را ولپنڈی سے آمدہ ایک احمدی دوست سے عند الملاقات حضرت خلیفہ اول نے کمال مہربانی سے خاکسار کا حال پوچھا تو ان صاحب نے اپنی خاص طرز سے جس میں مذاق کا رنگ زیادہ ہوتا تھا۔عرض کیا کہ فضل احمد تو کوئی راجہ اترا ہوا ہے۔اس کے مکان پر بڑے کھانے تیار ہوتے رہتے ہیں۔فرمایا کہ اگر ان کے پاس اتنا روپیہ ہے تو وہ ہمیں کیوں نہیں بھیج دیتے تا کہ غرباء پر خرچ کیا جائے۔واپس آکر ان صاحب نے یہ واقعہ سنایا تو مجھے بہت رنج ہوا۔میں نے خیال کیا کہ میں حضرت کی دعاؤں سے محروم ہو گیا ہوں اور حضور مجھ پر ناراض ہیں۔میں نے کہا کہ میں کہاں کا راجہ ہوں۔آپ نے یہ کیا کہہ دیا ؟ اسی انداز میں یہ صاحب کہنے لگے۔کہ قادیان جانے سے پہلے میں آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ بڑے کھانے پک رہے ہیں۔میں نے بتایا کور (CORPS) والے میری دعوتیں بار بار کر رہے تھے۔اس لئے میں نے بھی سب کی دعوت کر دی تھی۔کچھ عرصہ بعد میں قادیان گیا تو حضور کو اپنے مکان کے صحن میں کھڑا پایا۔السلام علیکم عرض کیا۔تو فرمایا کہ ہم آپ پر خوش ہیں۔مگر قدرے ناراض بھی۔عرض کیا کہ خوشی تو خوشی ہی ہے۔میں حضور کی ناراضگی کو بھی اس رنگ میں دیکھتا ہوں کہ آخر حضور مجھے اپنا خادم ہی سمجھتے ہیں۔جبھی تو ناراضگی کا ذکر فرماتے ہیں۔اگر یہ خادم غیر ہوتا تو حضور ناراض نہ ہوتے۔اس پر حضور بڑے خوش ہوئے۔الحمد للہ کہ غالبا ان صاحب کی بات سے پیدا شدہ ناراضگی کی بات آئی گئی ہوگئی۔اور حضور بھی خوش ہو گئے۔