اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 92 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 92

۹۲ حضور اس امر سے متاثر تھے کہ شیخ صاحب خطوط کے ذریعہ محبت بڑھاتے ہیں۔چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ میں آپ کی خدمت میں جلدی جلدی عریضہ دعا بھیجا کرتا تھا۔ان دنوں کارڈ کی قیمت ایک پیسہ تھی۔میں کارڈ لیتا اور بطور مثال یوں لکھتا: سیدی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ دعا کا محتاج ہوں اور طلب گار بقول آنانکه خاک را با نظر کیمیا کنند آیا بود که گوشه چشم بما کند مفہوم اس شعر سے میرے دل میں یہ ہوا کرتا تھا کہ حضور کو تو خدا تعالیٰ نے وہ توجہ اور کشش بخشی ہے کہ اگر آپ میرے جیسے خاک سے بھی بدتر انسان پر دعا اور توجہ فرمائیں تو میں سونا بن سکتا ہوں۔پھر کبھی لکھتا۔بحاجتے کہ خواہست با خدا! جانا چه حاجت آخر دے پرس که مارا کہ اے میرے پیارے ! اس حاجت اور دعا کو مد نظر رکھ لیں جو حضور کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنی ہے۔اور سائل کی تڑپ کا اندازہ کر کے دیکھ لیں کہ آخر ہماری بھی حاجتیں اور خواہشیں ہیں۔گو ہم گنہگار ہی سہی۔پر آخر طلب اور تڑپ تو ہمارے اندر بھی ہے۔غرض اس قسم کے اشعار گا ہے گاہے میں لکھتا رہتا تھا۔آپ کے دل پر میرے ان عریضوں کا اثر ہوتا تھا۔مگر مجھے علم نہ تھا کہ اثر ہے بھی کہ نہیں۔اور اگر ہے تو کتنا۔غالباً ۱۹۰۹ ء میں لاہور کے احباب جماعت نے احمد یہ بلڈنگز کے پاس ایک میدان میں جلسہ کیا۔اس جلسہ میں حضرت خلیفہ ثانی نے (جن کو ان دنوں ہم میاں صاحب کہا کرتے تھے ) بھی تقریر کی۔جس کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے تقریر کی اور اس میں کہا کہ ابھی آپ نے ایک بچے کی تقریر سنی ہے۔اس سے اندازہ کر لیں کہ اس بچے میں وہی حضرت عیسے والی صفت ہے (مفہوم) میں حکیم فضل حق صاحب بٹالوی کو ساتھ ساتھ لئے جلسہ دکھا رہا تھا۔انہوں