اصحاب احمد (جلد 3) — Page 263
۲۶۳ ہے۔وہ نکتہ نواز ہے۔اسے کون سی ادا پسند آگئی وہی جانتا ہے۔مگر جیسا آپ نے اشارہ کیا ہے۔یہ ایک نعمت الہی ہے اور ہزار ہا دنیاوی نعمتوں سے بڑھ کر جس کے لئے میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہوں۔برادران ! آپ نے اشارہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے ابتلاء جماعت پر آئے۔مگر آپ نے ہر موقعہ پر مجھے صائب رائے اور مستقل مزاج پایا یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو اپنے فضل سے محفوظ رکھا۔برادران ! میں پھر عرض کرتا ہوں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔انسانی کوششوں کا بے شک دخل ہوتا ہے۔مگر انسانی کوشش اسی حد تک بارآور ہوتی ہے جس حد تک قلبی کیفیت رہنمائی کرتی ہے۔انسان دماغ سے کام لیتا ہے۔لیکن اگر دل صاف نہ ہو تو ہدایت نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جگہ جگہ دماغ کو اپیل کیا ہے۔انبیاء اور ان کی امتوں کا تذکرہ کیا ہے۔اور ان کی مثالیں بیان کر کے ہدایت کی طرف دعوت دی ہے۔مگر قلب سلیم کو زیادہ پسند کیا ہے۔اور قرآن شریف کے آخر میں اس دعا کو رکھا ہے۔قل اعوذ برب الناس (الخ) یعنی ہزا رہا دلائل اپنی ہستی کے اور ملائکہ کے دیئے۔انبیاء و مرسلین اور کتابوں کی ضرورت بیان کی۔روزِ جزا کا ثبوت پیش کیا۔مگر پھر بھی انسان کو اس بات کا محتاج رکھا کہ وہ وسواس الخنّاس من الجنة والناس سے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے۔"برادران ! آپ اپنے دل میں غور کریں کیا آپ نے محض اپنے علم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شناخت کیا ؟ نہیں ہرگز نہیں۔بلکہ ایک انکسار تھا۔آپ نے نیک ظنی کی۔اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو شناخت کی توفیق دی۔اگر انبیاء کی شناخت محض دنیاوی علم پر منحصر ہوتی تو ہزار عالم فاضل اس نعمت سے محروم نہ