اصحاب احمد (جلد 3) — Page 248
۲۴۸ (۵): آج سے ساٹھ باسٹھ سال قبل آپ نے چار سال میں قریباً سترہ صد روپیہ چندہ دیا۔جو جماعت شملہ کے اس عرصہ کے مجموعی چندہ کا قریباً ایک تہائی تھا۔جماعت کا چندہ مبلغ پانچ ہزار پچاسی روپیہ تھا۔جید ۱۹۰۸-۰۹ء میں آپ نے اور ایسے دیگر افراد نے جو خاص مالی خدمت کی رپورٹ میں اس کی تعریف کی گئی ہے۔اس رپورٹ کے مطالعہ کے بعد مؤقر الحکم نے تحریر کیا : دد بعض اوقات چندوں کے دینے میں تو ایک فرد بھی بے نظیر کام کر جاتا ہے۔جیسا کہ شملہ کی انجمن کی رپورٹ میں وہاں کے درخشندہ گوہر بابو برکت علی کا نام ہے ۲۔“ (۲): آپ بھی موصی تھے۔نیز اہلیہ صاحبہ سمیت تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔احرار کی یورش اور شورش کو زائل کرنے میں مقامی تبلیغ نے کار نمایاں سرانجام دیا اور ماحول قادیان کی فضاء میں احرار کے مخالفانہ اثر و نفوذ میں بہت بڑی کمی پیدا کر دی تھی۔صدر انجمن احمدیہ کی مالی امداد قلیل تھی۔اور اس کمی کو احباب کی مالی اعانت پورا کرتی تفصیل یہ ہے: ۰۸-۱۹۰۷ء چندہ جماعت شمله جماعتی چندہ میں شامل خانصاحب کا چندہ رپورٹ جلسہ سالانه ۱۹۰۸ء) قریباً تیره صد روپیه چار صد سے زائد 81901-09 سترہ صد تریسٹھ روپے قریباً آٹھ صد روپیہ رپورٹ جلسہ سالانہ ص۲۲) پونے نو روپے 81910-11 رپورٹ سالانہ ص ۷۱ ۳۰) آٹھ صد تمیں روپے د وصد گیارہ روپے + چوبیس روپے ۱۲-۱۹۱۱ء ( رپورٹ سالانہ ص ۸۹) گیارہ صد بانوے روپے دوصد چھپن روپے ۱۹۱۰-۱۱ ء میں مرکز کی طرف سے اکتیں طلباء کو سات صد اٹھاسی روپے دئے جاتے تھے۔ایک کو وظیفہ دو روپے ماہوار ملتا تھا جو منشی برکت علی صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ شملہ نے مقرر فرمایا ہوا ہے۔کیا بہتر ہو کہ دیگر احباب بھی آپ کی طرح اس قسم کے وظائف کی طرف متوجہ ہوں تو خرچ میں بہت کمی ہوسکتی ہے اس۔