اصحاب احمد (جلد 3) — Page 220
۲۲۰ ”دیکھو! کثرت وقلت کا راز میں نے تمھیں سمجھا دیا ہے یہی وہ راز ہے جس سے صحابہ کے اجماع کو منشائے الہی سے تعبیر کیا گیا اور خلفائے راشدین کی خلافت حضرت آدم اور حضرت داؤد کی مانند منجانب اللہ ٹھہری۔اس طرح حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کے خلفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔جس حکم کے ماتحت پہلے خلیفہ کے منکرین فاسق قرار دیئے گئے۔وہ حکم منسوخ نہیں ہوا۔غور کرو! اور اپنے آپ کو گمراہی میں مت ڈالو! ہے“ والدہ محترمہ آپ کی والدہ محترمہ صاحب جان صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ میں سکھوں کے راج میں قریباً بارہ سال کی تھی۔اُن کے زمانہ میں غیر مذاہب والوں اور خصوصاً مسلمانوں کو کسی قسم کی آزادی حاصل نہ تھی۔حتی کہ وہ مسجدوں میں اونچی آواز سے اذان بھی نہیں دے سکتے تھے۔ان کا کوئی فوجی دستہ یا چند سپاہی کسی گاؤں کے پاس سے گزرتے اور باہر ڈیرہ ڈال دیتے۔تو گاؤں میں آکر لوگوں کے گھروں سے چار پائیاں اور دیگر اسی قسم کی ضروری اشیاء لے جاتے اور جاتے ہوئے وہیں چھوڑ جاتے اور بعض اشیاء ساتھ لے جاتے تو کسی کو مزاحمت کی جرات نہ ہوتی۔کبھی کبھی گھر کے چھوٹے بچے روتے پیٹتے اور بعض چیزوں کے ساتھ چمٹ جاتے کہ ہماری ہیں نہ لے جاؤ تو یہ سپاہی ان بچوں کو جھڑک دیتے۔آپ شادی سے پہلے بمقام نور محل ضلع جالندھر اپنے والدین کے ہاں رہتی تھیں۔سکھوں کے راج کے آخری دنوں کا چشم دید حال آپ سناتی تھیں کہ نور محل میں ہم نے دیکھا کہ سکھوں کے سپاہی بھاگے جارہے ہیں۔کیس ( یعنی ان کے سر کے بال ) گھلے ہوئے ہیں۔اور بدن سے خون جاری ہے۔اُن کے پیچھے انگریزی فوج کا دستہ آیا۔اُن کے ساتھ گتے تھے۔کچھ اونٹ تھے اور دیسی سپاہی بھی تھے قصبہ کے لوگ اپنے گھروں کی چھتوں : آپ کے مضمون ” جماعت احمد یہ شملہ نے خلافت ثانیہ سے کس طرح وابستگی اختیار کی مندرجہ الفضل ۳ فروری ۱۹۴۰ء میں جماعت شملہ کے متعلق تفصیلی کوائف موجود ہیں۔