اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 151 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 151

۱۵۱ رحمت کے مرہم کا پھاہا رکھا۔حضرت امیرالمومنین خلیفہ امسیح الثانی لاہور تشریف لے گئے اور وہاں سے صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو ( جو قادیان میں بحیثیت امیر تمام امور کے منتظم تھے ) پیغامات بھیجے کہ قادیان میں جولوگوں کی امانتیں ہیں لاہور بھجوائی جائیں۔اس پر حضرت ممدوح نے مجھے حکم دیا کہ میں وہ امانتیں لاہور لے جاؤں۔ان دنوں حضرت خلیفہ اسی لاہور سے ٹرک بھجوایا کرتے تھے۔جن میں قادیان کی مستورات اور بچے لاہور جاتے تھے۔مگر ان ٹرکوں میں لاہور جانا کار دارد والا معاملہ تھا۔قادیان کے غیر احمدی لوگ بڑا بڑا کرایہ دے کر ٹک والوں سے جگہ لے لیتے تھے۔اور بہت سے احمدی جگہ نہ پا کر واپس آجاتے تھے۔یہی حالت میری تھی۔میں صبح کو امانتوں کے ٹرنک دفتر سے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی کوٹھی پر لاتا۔جگہ نہ ملتی تو شام کو واپس خزانہ صدرانجمن میں لے جاتا۔آخر ۲۰ ستمبر کو مجھے جگہ مل گئی۔اور میں یہ ٹرنک لے کر قادیان سے روانہ ہوا۔جب ہم قادیان سے ایک میل باہر آئے تو اس چھ بسوں والے قافلہ کو روکا گیا۔اور سامان اور ٹرنک وغیرہ چیک ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔اتنے میں میاں روشن دین صاحب زرگر میرے پاس آئے اور منت سماجت سے کہنے لگے کہ میرا پارسل لاہور لے جائیں۔اس میں سونے کی تین سلاخیں ہیں۔میں نے مان لیا اور ان کا پارسل اپنے کیش بکس میں رکھ لیا۔اتنے میں ایک ڈوگرہ لیفٹیننٹ آگیا اور سامان چیک کرنے لگا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس کیش بکس میں کیا رکھا ہے میں نے کہا کہ ایک شخص نے یہ کہہ کر پارسل بطور امانت دیا ہے کہ اس میں تین سلاخیں سونے کی ہیں۔اس نے پارسل کھولا اور میری طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ دیکھ لیں۔میں آپ کی سونے کی سلاخیں آپ کو واپس دے رہا ہوں۔اور پھر بس کے اندر دوسرے سامان کو چیک کرنے لگا۔اس میں فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے چستی ٹرنک اور بڑے بڑے