اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 150 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 150

۱۵۰ ابتداء ۱۹۵۰ء میں بائیں آنکھ میں نزول الماء کا آغاز ہونے کے باعث میں نے دفتر امانت کے کام سے فراغت حاصل کرلی۔اور اکتو بر ۱۹۵۶ء میں گنگا رام ہسپتال لاہور میں مکرم ڈاکٹرمحمد بشیر صاحب برادر مکرم قاضی محمد اسلم صاحب ( حال پر نسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ ) نے آپریشن کیا۔اپریل ۱۹۵۹ء میں اسی شفا خانہ میں دوسری آنکھ پر عمل جراحی کیا گیا۔ایسے موقع پر کسی حاضر باش خدمت گزار کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر دو بار پسرم عزیزم رشید نا صر صاحب عین وقت پر پہنچ جاتے رہے۔دیگر کوئی بیٹا فارغ نہ ہو سکتا تھا۔مالی تنگی بھی تھی۔پھر نفخ کی تکلیف بھی۔بعد عمل جراحی چوبیس ۲۴ گھنٹے سیدھے لیٹا رہنا پڑتا ہے۔اور حرکت سے زخم متاثر ہوتا ہے۔اور اپریشن کامیاب نہیں ہوتا۔ہر دو مواقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا بھی فرمائی۔اور نصف نصف صد روپیہ کی امداد بھی کی۔سو بحمد للہ اپریشن کامیاب ہوئے۔میرے دفتر امانت کے بعض افسران کا خیال تھا کہ ترک ملازمت سے میری آمد کم ہونے کے باعث مجھے پریشانی ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے دستگیری فرمائی۔اور میری آمد دو چند ہو گئی۔سرکاری پنشن نصف صد روپیہ کے علاوہ میرے ہمشیرہ زاد عزیزم سلیم اللہ خاں سلمہ کچھ عرصہ نصف صد اور کچھ عرصہ تمہیں روپے ماہوار کی امداد کرتے رہے پھر مجھے ایک بچے سے تہیں روپے اور پھر دوبچوں سے ساٹھ روپے ماہوار ملنے لگے۔فالحمد للہ علی ذالک۔قادیان سے ہجرت تقسیم برصغیر کے نتیجہ میں کیسے ہولناک مصائب کا سامنا ہوا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت کیسے ایک قلیل تعداد اور اموال والی جماعت کے نفوس واموال کی حفاظت کا باعث بنی۔شیخ صاحب کا اس بارے میں یہ بیان ہے جو خود شیخ صاحب کی سیرة پر بھی روشنی ڈالتا ہے آپ بیان کرتے ہیں: اگست ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک ہوئی اور قادیان سے نکلنے کا سامان ہونے - لگا۔یہ بڑی مصیبت کے دن تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے ہمارے دلوں پر اپنی