اصحاب احمد (جلد 3) — Page 120
۱۲۰ وہ حضور کو دے دے۔اس دعا کے چند سال بعد قادیان میں ایک نوجوان نے جو اس وقت حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔ملاقات ہونے پر بڑی گرم جوشی سے بغلگیر ہو کر مجھے بتلایا ان کچھ کرنے کہ آپ ان چھ دوستوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی زندگی حضور پر قربان کرنے کے لئے دعا کی تھی۔ان چھ احباب میں حضرت سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی صحابی بھی تھے۔خدا تعالیٰ نے ان کی قربانی قبول کر لی اور وہ وفات پاگئے۔اور آپ پانچ جو باقی رہ گئے ان کو ثواب مل گیا۔میں نے ان کی بات سُن کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔اور اپنی زندگی کے لمبا ہونے پر یہی دلیل کبھی کہ چونکہ میں نے زندگی پیش کی تھی خدا نے زندگی بڑھا دی۔اور حضرت خلیفہ ثانی کے ساتھ مماثلت اور مشابہت بھی پیدا کر دی۔الحمد لله ثم الحمد لله (۱۳): ۱۹۱۹ء یا ۱۹۲۰ء میں ایک دفعہ میں حضور کی زیارت کے لئے قادیان گیا۔حضور نے میری اور بابو عبد الحمید صاحب پٹیالوی کی دعوت کی۔اس دعوت میں حضرت خلیفہ ثانی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔بابو صاحب اور خاکسار تھے۔وہ کمرہ جس میں حضور تشریف لائے تھے سنا گیا تھا کہ محترمہ سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ سلمها اللہ تعالیٰ کا تھا۔حضور نے ایک مرغ بریاں ہماری طرف کر کے فرمایا کہ چھری سے کاٹ کر کھائیں۔پھر خود ہی اس کو کاٹنے لگے اور فرمایا کہ سخت ہے نرم نہیں۔باقی اور کھانے بھی تھے۔جو ہم سب نے کھائے۔مگر بابو صاحب اور میں نے مرغ بریاں نہ کھایا۔(۱۴): ایک دفعہ حضرت خلیفہ ثانی نے مجھے راولپنڈی لکھا کہ ایک اونٹ اور ایک ویلر گھوڑا ٹانگہ کے لئے نیلام سے خرید کر بھجواؤ۔قادیان سے بٹالہ تک کچی سڑک ہے۔معمولی گھوڑا کام نہیں دے سکتا۔یا فرمایا تھا تھک جاتا ہے۔خاکسار نے اونٹ تو بھجوا دیا مگر گھوڑا ویلر نہ مل سکا۔(۱۵): ۱۹۱۷ء میں بنوں میں مجھے چند روز بخار آیا تو میجر ڈیلی نے جو عارضی طور پر کمانڈر ہو کر آئے تھے۔بڑی محبت سے کہا کہ آپ تبدیل آب و ہوا کے لئے کسی پہاڑ پر چلے جائیں۔مجھے خیال آیا ان دنوں حضرت خلیفہ ثانی شملہ میں ہیں۔میں آپ کے پاس چلا جاؤں۔افسر موصوف نے مجھے ریل کا پاس وہاں سے بٹالہ اور بٹالہ سے شملہ اور اسی طرح