اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 113 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 113

۱۱۳ میں نے بازار میں بعض احمدی احباب سے کہا کہ اب ہم تین احمدی مبائع ہو گئے ہیں ہماری جماعت بن جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔بحثیں بڑے زور سے گرم ہونے لگیں۔میں نے ان میں اتنا حصہ لیا کہ قریباً روزانہ حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں رپورٹ بھجواتا۔اور میں نے سُنا کہ حضور میرا ذکر قادیان میں کیا کرتے تھے۔یہ ایام میرے لئے ایام جہاد تھے۔میں ہر وقت اس کوشش میں رہتا تھا کہ کسی پیغامی کو اپنے اندر جذب کیا جائے۔مولوی علی احمد صاحب حقانی جو عالم متبحر اور خاکسارانہ طرز کے انسان تھے اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے ساتھ قادیان گئے تھے۔اور انہی کا اثر لے کر واپس آئے تھے۔انہوں نے ان ایام میں خواجہ صاحب کی مدح سرائی میں بعض اشعار بھی کہے۔میں اُن سے ملنے گیا تو اپنی عادت کے مطابق بڑی محبت سے پیش آئے۔مولوی علی احمد صاحب پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں احمدی رہ چکے تھے۔مگر ایک خواب کی بناء پر جس میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں احمدیت سے علیحدہ ہو گئے تھے۔پھر حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی اور سلسلہ میں دوبارہ داخل ہوئے۔مگر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی صحبت کی وجہ سے اب پھر ابتلاء میں پڑ گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور میرے ذریعہ ان کے دل میں احمدیت کو پختہ کرنے کا سامان پیدا کر دیا۔فالحمدالله ثم الحمد لله ملاقات میں معلوم ہوا کہ حقانی صاحب پیغامی حضرت کو راہ راست پر سمجھتے ہیں۔میں نے پوچھا کہ اگر میں آپ کی غلط فہمیوں کی وجہ سے غلط راہ پر پڑ گیا اور میرے ساتھ وہ جو مجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں وہ بھی گمراہ ہو گئے تو کیا آپ ان تمام گمراہ لوگوں کے گناہوں کا عذاب اپنی گردن پر اٹھا سکیں گے؟ کیا آپ میں ایسی طاقت اور ہمت ہے۔ایک نیک انسان کی طرح مولوی صاحب گھبرا گئے۔اور پھر میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے اُس شخص سے ملاقات کی جو اپنے آپ کو خلیفہ اسیح کہتا ہے۔اور بانگ دہل اپنا دعوئی پیش کرتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو گواہ کر کے کہتا ہے کہ میرے منکر خدا تعالیٰ کی گرفت میں آجائیں گے؟ کہنے لگے نہیں انہیں تو میں نہیں مل سکا۔میں نے کہا آپ تب تک صبر کریں جب تک میں آپ کی ان سے علیحدگی میں ملاقات نہ کرا دوں۔وہ مان گئے۔اور وعدہ کیا کہ