اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 85 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 85

۸۵ زخمی ہوئے ہیں اور مردانہ میں سونے کی تبھی ضرورت پڑی ہے۔تا ساری رات بھی احباب خدمت میں رہ سکیں۔ایسی حالت میں شیخ صاحب تبھی طبی مشورہ کے لئے حاضر ہو سکتے ہیں اور خدمت میں حاضر خدام بھی تبھی اجازت دے سکتے ہیں۔جب سب کو حق الیقین ہو کہ حضور خدمت خلق کے لئے وقف ہیں اور ایسی شدید تکلیف میں بھی ایسے بے وقت مشورہ لینے کو ہرگز نا پسند نہ فرمائیں گے نہ صرف یہی بلکہ اسے باعث ثواب و موجب راحت سمجھیں گے۔نیز یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ محترم شیخ فضل احمد صاحب حضور سے گہرا رابطہ رکھنے میں اور صاحب عزت ہونے میں خدام میں معروف تھے۔آپ مزید بیان کرتے ہیں کہ میری زوجہ اول کی بیماری کے ایام میں مجھے بڑی پریشانی رہی تھی اور یہ بُت میرے دماغ اور دل پر حاوی تھا کہ حضرت خلیفہ اول کے علاج سے مریضہ کو شفاء ہو جائے گی۔دیگر وجوہات کے علاوہ دو بڑی بڑی وجوہات یہ تھیں کہ حضرت خلیفہ اول میرے مُرشد ہیں اور باخدا ہیں اور پھر طبیب بھی اعلیٰ درجہ کے ہیں۔میں حضور کو بار بار دعا کے لئے عرض کیا کرتا تھا۔ایک روز بوقت عصر حضور نے مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے پاس میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی جوان کو پیٹ درد ہوتی ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ ذرا چلنے پھرنے یا ورزش کرنے سے دور ہو جائیگی۔جب دور نہیں ہوتی تو اپنی بیوی سے ذکر کرتا ہے جو کہتی ہے کہ میں ابھی چائے وغیرہ تیار کر کے دیتی ہوں اس سے آرام ہو جائے گا۔جب اس سے بھی آرام نہیں آتا تو محلہ کے کسی طبیب سے دوائی پیتا ہے۔پھر بھی آرام نہیں آتا تو شہر کے بڑے طبیب کے پاس جاتا ہے۔اس کے علاج سے بھی آرام نہیں آتا تو اسے خیال آتا ہے کہ علاج سے تو شفاء نہیں ہوئی تو وہ کسی باخدا بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا حال عرض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دنیا کے علاج معالجوں سے تو کچھ نہیں ہوا۔اگر حضور نے دعا کی تو امید ہے شفاء ہو جائے گی۔مگر جب اس باخدا بزرگ کی دعاؤں سے بھی فائدہ نہیں ہوتا تو وہ خدا کے حضور سجدہ میں گر جاتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ اے خدا میں نے سارا جہان دیکھ لیا مگر میری مصیبت دور نہیں ہوئی۔اب تیرے دروازہ پر آیا ہوں۔اب تو رحم فرما اور میرے گناہ بخش کر مجھے شفاء دے تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے شفا دے دیتا