اصحاب احمد (جلد 3) — Page 84
۸۴ حضرت خلیفہ اول نے حکیم مولوی غلام محمد صاحب کے ذریعہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو کہا کہ وہ میری بیوی کو دیکھیں۔اور بتلائیں کہ کیا حالت ہے۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے انہیں کہا کہ میں اس مریضہ کو دیکھ چکا ہوں اس میں اب کچھ نہیں رہا۔دیکھنے کی ضرورت نہیں۔تو ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے دیکھنے سے انکار کر دیا۔مولوی غلام محمد صاحب فرماتے تھے کہ حضرت خلیفہ اول کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ڈاکٹر صاحب موصوف پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔پھر فرمایا کہ اب ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب سے کہیں کہ وہ دیکھیں۔چونکہ ابھی تینوں ڈاکٹر اسی جگہ مہمان خانہ میں اکٹھے بیٹھے تھے اور ان کے سامنے ہی ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے دیکھنے سے انکار کیا تھا اس لئے یا کسی اور وجہ سے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے بھی دیکھنے سے انکار کر دیا۔اس کی اطلاع پہنچنے پر بھی حضرت خلیفہ اول نے ناراضگی کے وہی الفاظ دہرائے جو سید محمد حسین شاہ صاحب کے متعلق کہے تھے۔میرے دل میں حضرت خلیفہ اول کے اخلاق حسنہ اور احسانات کی وجہ سے عشق کا رنگ پیدا ہو گیا تھا۔اور میں خواہش مند رہتا تھا کہ ہر وقت آپ کے پاس ہی بیٹھا رہوں۔ایک دفعہ رات کے تین بجے میری بیوی کا بخار بہت تیز ہو گیا۔۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء کو گھوڑی سے گرنے کی وجہ سے تکلیف کے باعث ان دنوں حضور مردانہ حصہ میں سوتے تھے اور احباب کو خدمت کرنے کا موقعہ ملتا تھا۔میں حضرت کے حضور حاضر ہو کر چار پائی کے پاس خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔اتنے میں حضور کی آنکھ کھلی تو حضور نے اسلام علیکم کہا اور فرمایا۔کیا بات ہے۔میں نے بخار کا حال عرض کیا تو فرمایا پانی میں کپڑا تر کر کے ریڑھ کی ہڈی پر ملو یہاں تک کہ بخار کم ہو جائے اور فرمایا ہم دعا کریں گے۔حضور کی دعا اور ارشاد سے بخار کم ہو گیا۔اور میں نے اسی حالت میں ایک کشف دیکھا جس میں میرے بھائی امیر احمد مرحوم کی موت کی طرف اشارہ تھا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ یہ بیان حضرت خلیفہ اول کی سیرت کے ایک درخشندہ پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔حضور شدید بیمار ہیں۔گھوڑے سے گر کر ی شیخ فضل احمد صاحب کہتے ہیں کہ شاید نا راضگی اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے تعمیل حکم نہ کی اور دیکھنے سے انکار کر دیا۔