اصحاب احمد (جلد 3) — Page 83
۸۳ کے دفتر محاسب میں بطور کلرک ہیں روپے ماہوار پر جگہ مل گئی۔حضرت مرزا محمد اشرف صاحب کے ماتحت کام کرنے لگا۔مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری صدر انجمن نے مجھے خطوط لکھ کر ڈلہوزی میں ہی طے کر لیا تھا کہ مجھے ملازمت دے دی جائے گی۔بلکہ ترقی وغیرہ کا وعدہ بھی کیا تھا۔شیخ نور احمد صاحب سکنہ کھارا نے میری بڑی مدد کی۔مجھے ایک مکان کرایہ پر لے کر دیا۔اور دیگر ضروری سامان بھی مہیا کیا۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں بیش از بیش ترقیات دے۔آمین ہے۔لیکن ہیں روپے کے قلیل مشاہرہ میں گزارہ کرنا محال ہو گیا۔بظاہر تو یہ ابتلاء تھا۔مگر حقیقت میں انعام - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ خدا کے بندے آلام کو برنگ انعام دیکھتے ہیں۔خدا کا شکر ہے کہ میں بھی اس تکلیف کو برنگ انعام ہی دیکھتا ہوں۔غرض میں قادیان میں کام کرتا رہا۔یہاں تک کہ میری بیوی کی بیماری نے طول پکڑا۔حضرت خلیفہ اول نے علاج بھی بہت کیا۔مگر ان کا بخار نہ ٹوٹا۔معلوم ہوتا تھا کہ میری بیوی مرضِ دق سال کی آخری منزل پر پہنچ چکی ہے۔حضرت مولوی غلام محمد صاحب امرتسری حضرت خلیفہ اول سے ہدایات لے کر علاج کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کو حضور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل دعا کے پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔جو سات روز تک پوری توجہ سے پڑھی جاتی ہے: اسئل الله العظيم رب العرش العظيم ان يشفيك جس کی تعمیل کی گئی مگر بخار پھر بھی نہ ٹوٹا۔حکیم مولوی غلام محمد صاحب موصوف نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کو حضرت خلیفہ اول نے میری اہلیہ کو دیکھنے کا حکم دیا۔انہوں نے سینہ بین لگا کر دیکھا اور کہا دونوں پھیپھڑے خراب ہو چکے ہیں اور لا علاج ہیں۔کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب قادیان آئے۔ہر دوڈاکٹر صاحبان ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے پاس مہمان خانہ میں موجود تھے۔حضرت شیخ نور احمد صاحب ولد شیخ مہتاب خان مختار عام خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام - مدفون بہشتی مقبرہ۔تاریخ وفات ۲۹ فروری ۱۹۳۶ ء موضع کھارا قادیان کے قریب جانب مشرق ایک گاؤں ہے۔