اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 70 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 70

عیسائیت کے رعب کا زمانہ آپ لکھتے ہیں کہ غالباً ۱۸۸۰ء میں یا اس کے قریب ایک عیسائی خاتون جس کو مس ٹکر کہتے تھے۔بٹالہ میں آئی وہ بقول بعض کے ملکہ وکٹوریہ کی خالہ زاد بہن تھی اس نے ایک مشن سکول بنام اے۔ایل۔او۔ای OF LADY (A (ENGLAND ہائی سکول قائم کیا۔میں نے اس بوڑھی عورت کو دیکھا ہے۔اس کا شاہانہ حال ان باتوں سے ظاہر ہے کہ بچپن میں سنتا تھا کہ وہ معزز گھروں میں جا کر ان کی مستورات کو شال پشمینہ کی گرم چادروں یا قمیصوں کے قیمتی کپڑے ریشمی وغیرہ کے تحائف دیا کرتی۔اور بڑی محبت سے نرم نرم باتیں کرتی تھی۔اس زمانہ میں انگریزوں کا بڑا رعب تھا۔اُسے بعض گھروں میں جاتے دیکھنا مجھے بھی یاد پڑتا ہے۔لوگ بہت عزت سے اس کے ساتھ پیش آتے تھے۔وہ محلہ کے بچوں کو اکٹھا کر کے ان میں مٹھائی تقسیم کرتی۔اس کے ساتھ ایک نوجوان عیسائی عورت غالباً بنام نور نشالی ایک پالکی میں آتی اور یسوع مسیح کے گیت گاتی تھی۔اس طرح اس کا دخل گھروں میں ہو گیا تھا۔اور عورتیں عیسائیت کی تبلیغ اپنے گھروں میں سُنا کرتی تھیں۔بازاروں میں عیسائی مناد بڑی بڑی تقریریں اور وعظ کرتے تھے۔کسی کی کیا مجال کہ کوئی ان سے جھگڑے یا بحث مباحثہ کرے ہر معزز قوم کے افراد مرد و زن آغوشِ عیسائیت میں آنے لگے۔اسی زمانہ کی بات ہے کہ ایک مسجد کے امام الصلوۃ مولوی قدرت اللہ صاحب نے عیسائیت قبول کر لی۔لیکن پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوشش سے دوبارہ قبول اسلام کی برکت پائی۔اس مشن ہائی سکول کے علاوہ ایک سکول بنام بیرنگ ہائی سکول بھی قائم کیا گیا تھا۔جو خالصہ عیسائی بچوں کی تعلیم کے لئے تھا۔اس زمانہ میں پادری وائٹ بر سخٹ بھی جو بعد میں غالباً لاٹ پادری ہو کر لاہور میں مقیم رہے بٹالہ میں بطور بڑے پادری کے متعین تھے۔مشن ہائی سکول کا مینیجر پادری کا ورڈیل تھا۔جو اکثر مشن سکول کے بچوں کو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے شام کو بلا لیا کرتا تھا۔اور انہیں جرابیں ، رومال ، مٹھائیاں ، فالودے وغیرہ دیا کرتا تھا۔اس طرح تالیف قلوب کر کے لڑکوں کو مانوس کرلیا جاتا اور پھر ان کی سفارشیں