اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 62 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 62

۶۲ انتقال و تدفین وو محترم بابو فقیر علی صاحب رضی اللہ عنہ ریٹائر ڈسٹیشن ماسٹر وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔کے زیر عنوان الفضل رقم طراز ہے: ر بوہ ۱۴ دسمبر۔نہایت افسوس سے لکھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی محترم جناب بابو فقیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کل مورخه ۱۴ دسمبر ۱۹۵۹ء بروز اتوار علی الصبح تین بج کر چالیس منٹ پر قریباً اسی سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ احمد یہ میں داخل ہوئے تھے۔”نماز جنازہ کل نماز عصر کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد مدظلہ العالی صاحب نے پڑھائی۔جس میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد۔صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے ناظر وکلاء صاحبان۔دفاتر کے کارکنان اور دیگر اہل ربوہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔مرحوم موصی تھے۔لہذا جنازہ بہشتی مقبرہ لے جایا گیا۔حضرت میاں صاحب مد ظلہ العالی نے بھی جنازہ کو خاصی دور تک کندھا دیا۔کثیر التعداد احباب کے علاوہ محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بھی جنازے کے ہمراہ مقبرہ بہشتی تشریف لے گئے۔جہاں محترم بابو صاحب کی نعش کو قطعۂ صحابہ میں سپرد خاک کیا گیا۔قبر تیار ہونے پر مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے دعا کروائی۔بابو صاحب محترم احمدیت کے نیچے فدائی۔نیک اور عابد وزاہد بزرگ تھے۔نماز با جماعت اور تہجد کا خاص التزام فرماتے۔زندگی بھر سلسلہ کی جملہ تحریکات میں حسب استطاعت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔خاص طور پر تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔جہاں کہیں بھی رہے نہایت مستعدی اور بے