اصحاب احمد (جلد 3) — Page 63
۶۳ باکی سے فریضہ تبلیغ ادا کیا۔ہی دینی ذوق وشوق اور مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ امسال بھی جب کہ آپ عمر کے تقاضے اور مسلسل بیماری کی وجہ سے بہت نحیف اور کمزور ہو گئے تھے۔مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے امتحان ترجمہ قرآن مجید میں شریک ہوئے اور جملہ انصار میں دوم پوزیشن لے کر اجتماع کے موقع پر انعام حاصل کیا۔۱۹۲۸ء میں جب پہلی بار بٹالہ سے قادیان تک ریلوے لائن ممتد ہوئی تو اس وقت آپ ریلوے میں ملازم تھے۔آپ محکمے کی طرف سے قادیان کے پہلے اسٹیشن ماسٹر مقرر ہوئے۔آپ کی سب سے بڑی خوش بختی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو محترم جناب مولوی نذیر احمد صاحب علی مرحوم جیسا قابل فخر فرزند عطا کیا۔جنہوں نے مغربی افریقہ میں سالہا سال تک رئیس التبلیغ کے طور پر نہایت اخلاص۔محنت و جانفشانی اور کامیابی کے ساتھ اپنے مفوضہ فرائض کو سرانجام دیا۔اور بالآخر ۱۹۵۵ء میں وہیں وفات پا کر شہادت کا مرتبہ پایا۔آپ کے دوسرے فرزند مکرم جناب با بو بشیر احمد صاحب قیامِ پاکستان کے بعد سے اپنے تجارتی کاروبار کے سلسلہ میں مگھیا نہ میں مقیم ہیں۔اور امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع جھنگ کے طور پر خدمات بجالا رہے ہیں۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی تحریک پر کہ احمدی احباب غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کیلئے نکل جائیں، آپ تبلیغ کا فریضہ سرانجام دینے کی خاطر اپنے خرچ پر ملک ایران تشریف لے گئے تھے۔آپ نے وہاں کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن طہران میں ایک مجلس میں میں تبلیغ کر رہا تھا۔اور میں نے جب یہ بات بیان کی کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ السلام ہی امت محمدیہ کے مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں۔اور میں نے آپ کو خود دیکھا ہے تو مجلس سے ایک آدمی اٹھا اور میرے قریب آکر اس نے پوچھا ' آغا ! آن مسیح موعو و مہدی شما خود یدی تو میں نے جواب دیا۔خود دیدم تو پھر اس ایرانی شخص نے میری آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دریافت کیا۔کیا آپ نے اپنی ان آنکھوں سے مسیح موعود کو دیکھا ہے۔تو وہ شخص محبت اور عشق سے میرے کندھوں کو چومنے لگا۔“