اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 57 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 57

۵۷ دیا۔اور فرمایا۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ تحصیلدار کے تبادلہ کے احکام صادر ہو گئے اور اس نے یہ سوچ کر کہ مقدمہ تو جھوٹا ہی ہے۔نیا تحصیلدار اسے ضرور خارج کر دے گا۔میں ہی کیوں نہ خارج کر دوں۔آپ کو باعزت بری کر دیا۔مال و منال سے نفرت اور کسب حلال سے محبت آپ نے کسی مولوی سے یہ بات سنی تھی کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کاشتکاری کرنا نا پسند فرمایا ہے۔سو جو تھوڑی سی اراضی باقی تھی اور اس سے آپ استفادہ کر سکتے تھے۔اس کے قبضہ میں لینے کی بھی آپ نے کوشش نہیں کی اسی طرح کسی مولوی سے آپ نے یہ بھی سنا تھا کہ حضور صلعم نے فرمایا قیامت کے روز میں غرباء کے ساتھ اٹھوں گا یا ہوں گا۔اس بات کا آپ کے قلب صافی پر یہ گہرا اثر ہوا کہ زیادہ فارغ البالی کی نسبت غریبانہ زندگی روحانیت کے لئے مفید ہوتی ہے۔چنانچہ احد پورٹیشن پر تعیناتی کے عرصہ میں آپ یہ دعائیں کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے امیر نہ کیجیو۔بلکہ غریب ہی رکھیو اور تمہیں روپے ماہوار سے میری تنخواہ بڑھنے نہ پائے۔اس زمانہ میں سٹیشن ماسٹر کی تنخواہ کی آخری حد یہی تھی۔اس وقت کے سٹیشن ماسٹر کا لڑکا جو آپ کا ہم عمر اور ان دعاؤں کا شاہد تھا۔پندرہ سال بعد آپ سے امرت سر میں ملا اس نے یہ یاد دلا کر دریافت کیا کہ اب آپ کی ماہوار تنخواہ کیا ہے؟ آپنے بتایا کہ اس وقت میری تنخواہ باسٹھ روپے ہے جو اس زمانہ کے تئیں روپے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔اور میرے حالات اور طرز بود و باش حسب سابق غریبانہ ہے۔سکھر کا واقعہ ہے کہ سفر پر جانے کے لئے کچھ سامان آپ۔آپ کی اہلیہ صاحبہ اور ہمشیرگان اٹھائے ریلوے سٹیشن کو جارہے تھے۔کہ راستہ میں چند ریلوے بابو ملے۔انہوں نے تمسخرانہ انداز سے سلام کیا اور قہقہے لگائے۔بعد میں بھی وہ دفتر میں اور پلیٹ فارم پر اسی رنگ میں آپ کا مذاق اڑا کر آپ کو تنگ کرتے اور کہتے مولوی فقیر علی صاحب اسٹیشن ماسٹر کے عہدہ کو بدنام کرتے ہیں۔تانگہ وغیرہ کی بجائے مولویانی صاحبہ اور لڑکیوں سے سامان اٹھواتے ہیں اور خود بھی سامان اٹھاتے ہیں۔آخر تنگ آکر ایک روز آپ نے ان بابو صاحبان سے کہا کنجوس اور بے شرم میں ہوں۔یا تم لوگ جو ریلوے محکمہ کا تیل اور سامان نیز