اصحاب احمد (جلد 3) — Page 56
۵۶ رقم ادا کر دی اور بابو صاحب کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ ہم سے رقم وصول کی گئی ہے۔ہم آج رات ہی آپ سے یہ رقم وصول کر لیں گے۔بابو صاحب نے کہا باپ کے بیٹے ہو تو کوتاہی ہرگز نہ کرنا۔انہوں نے حیران ہوکر ایک قلی سے کہا کہ یہ مولوی کیا مصیبت آگیا ہے۔ہم آج ہی اس کا گھر لوٹ لیں گے۔اس نے کہا کہ ان کے گھر میں ٹوٹی ہوئی صف مٹی کا لوٹا مٹی کی کنالی۔اور مٹی ہی کی ہنڈیا ہے۔دھات کا کوئی برتن نہیں۔انکی بیوی کے پاس پیتل تک کا زیور نہیں۔البتہ اگر انہیں زدو کوب کرنے کا ارادہ کیا تو یہ جان لو وہ جماعت احمدیہ کے فرد ہیں۔ان کی جماعتی تنظیم ان کی مدد کرے گی۔اور آپ کا سارا گاؤں اس ظلم کی پاداش میں تباہ ہو جائیگا۔چنانچہ آپ کئی سال تک اس سٹیشن پر متعین رہے اور آپ کا بال تک پی کا نہ ہوا۔اور کبھی کسی کو بغیر ٹکٹ وہاں اترنے کی جرات نہ ہوئی۔میاں صاحب ذکر کرتے ہیں کہ والد صاحب جب کوٹ لکھپت کے سٹیشن ماسٹر تھے تو ایک ہندو سٹال والے کی شکایت پر کہ اس کے گھڑے ایک مسلمان نے بھرشٹ کر دیئے ہیں۔آپنے اس مسلمان سے قیمت دلا دی۔چند روز بعد اس ہند وسٹال والے نے مسلمانوں والے گھڑے کو ہاتھ لگا دیا۔آپ نے اسے کہا کہ تم مسلمانوں سے زیادہ گندے ہو۔اس روز میں نے ایک مسلمان سے گھڑے کی قیمت دلائی تھی اب تم رقم ادا کرو۔چنانچہ نیچے ہندوؤں کی ایسی شکایات رُک گئیں۔با بو اللہ بخش صاحب ریلوے گارڈ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بابو صاحب نور پور روڈ سٹیشن ( ضلع کانگڑہ) پر متعین تھے۔ایک سب ڈویژنل آفیسر کے عہدہ پر متعین شخص وہاں سے تین چارسٹیشن تک روزانہ بلا ٹکٹ سفر کرتا تھا۔آپ نے اس سے کرایہ چارج کر لیا۔اور آئندہ اسے اس طرح سفر کرنے سے سختی سے منع کیا۔اس نے مشتعل ہو کر پہلے آپ کے ہاں چوری کروادی پھر ایک تانگہ والے سے تحصیلدار کی عدالت میں آپ کے خلاف استغاثہ دائر کروا دیا۔کہ فلاں روز سیر کے دوران بابو صاحب نے مجھے بلا وجہ گالیاں دیں۔اور مجھے مار پیٹ کی تحصیلدار بھی بابو صاحب کا مخالف تھا۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کیا۔آپ نے دعا فرمائی نیز مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈوکیٹ گورداسپور (حال امیر صوبائی۔مقیم سرگودھا) کو اپنا وکیل مقرر کرنے کا مشورہ