اصحاب احمد (جلد 3) — Page 55
۵۵ میں پہنچ سکی۔اس خوشخبری کی وجہ سے ہیڈ ماسٹر صاحب کے کئی اقارب ہمارے ہاں آئے اور یہ خاندان دس روز تک میرے ہاں مقیم رہا۔جرات و اصول پرستی ایم بشیر احمد صاحب موصوف بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب ریلوے قوانین کی نہ صرف خود سختی سے پابندی کرتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی پابندی کراتے تھے۔تھی جو گھر سے سٹیشن پر آپ کا کھانا لاتا۔آپ اس کا معاوضہ بھی ادا کرتے تھے۔ہندوؤں کی طرف سے آپ کی مخالفت ہوتی تھی۔چنانچہ ۱۹۱۹ء کے مارشل لاء کے ایام میں جس کا آغاز ہی امرتسر سے ہوا تھا۔آپ اپنے فرائض کو ادا کرتے رہے اور ریل گاڑیوں کی آمد و رفت سنبھالے رکھی۔لیکن ان حالات کی وجہ سے اور آپ کی تبلیغی مساعی کے باعث ہندوؤں کی طرف سے جو تمام محکموں پر چھائے ہوئے تھے۔آپ کی ترقی میں رُکاوٹ پیدا ہوتی رہی اور زیادہ ترقی نہ ہو سکی۔البتہ گرفت میں لینے کی مساعی ان مخالفین کی ناکام رہتی تھی۔چنانچہ جب آپ کا تبادلہ سکھر سے لاہور ہوا۔اس وقت والد صاحب کے انتقال کی وجہ سے آپ کی ہمشیرہ آپ کی سر پرستی میں تھیں۔اس لئے جب ان کا پاس لینا چاہا تو ہیڈ آفس نے دریافت کیا کہ سٹھا رجہ سکھر کو تبادلہ ہوا تو آپ نے ہمشیرہ کا پاس نہیں لیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بلا ٹکٹ سفر کرایا تھا۔آپ نے مطلع کیا کہ بینک پیپر پر نصف ٹکٹ اس تاریخ کو جو بنایا گیا تھا وہ اسی بچی کا تھا۔میاں صاحب موصوف یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ آپ سٹیشن گور دست ستلانی پر تبدیل ہوئے تو پہلے ہی روز با وجود نحیف ہونے کے آپ نے چار موٹے تازے سکھ جائوں کو روک لیا۔اور کہا تم نے بغیر ٹکٹ سفر کیا ہے۔رقم ادا کرو۔انہوں نے کہا ہم نے آج تک کبھی ٹکٹ نہیں لیا۔آپ نے کہا کہ میں سرکاری ملازم ہوں۔آپ سے ٹکٹ لوں گا یا رقم اور باتیں کرتے ہوئے انہیں اپنے کمرے میں لے گئے اور تار کے ذریعہ اٹاری سٹیشن پر اطلاع دی۔چنانچہ دو میل کا فاصلہ طے کر کے پولیس پہنچ گئی۔آپ نے میمو بنا کر پولیس کے سپرد کر دیا۔ان لوگوں نے اس یقینی خطرہ کے پیش نظر کہ اب پولیس ہتھکڑی لگا کر لے جائے گی