اصحاب احمد (جلد 3) — Page 35
۳۵ حضرت خلیفہ اول کی سادگی آپ تحریر کرتے ہیں کہ خلافت اولی میں میں ایک روز بعد دو پہر حضرت خلیفہ اول کے مطب میں حاضر ہوا۔آپ احباب میں دری چٹائی پر بچھائے تشریف فرما تھے۔آپ کا ایک بچہ ننگے پاؤں۔خاک آلود جسم کے ساتھ ایک کھلونا جولکڑی کا گڑوا تھا۔لے کر آیا۔اس میں کھنے ہوئے چنے تھے۔اور گود میں بیٹھ کر کہا کہ ابا جی ! ابا جی ! چنے کھا لو۔آپ نے گڑوا پکڑ کر چنے کھانے شروع کئے۔اور فرمایا۔الحمد للہ۔اللہ تعالیٰ نے نورالدین کو رزق بھیج دیا آج ہم گھر میں کھانا کھانے گئے اور بیٹھ کر چلے آئے۔معلوم ہوتا تھا کہ بچے ہمارا کھانا کھا گئے ہیں۔آپ یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ ایک جمعہ کے روز میں امرتسر سے قادیان پہنچا اور جاتے ہی نماز جمعہ سے پہلے حضرت خلیفہ اول کے حضور السلام علیکم عرض کیا۔فرمایا آجائیے۔کون صاحب ہیں؟ آجائیے : حاضر ہوا۔تو دیکھا کہ آپ بہت معمولی چھوٹی مونج کی چار پائی پر بیٹھے جمعہ کے واسطے کپڑے پہن رہے ہیں۔آپ نے وعلیکم السلام فرمایا۔اور مصافحہ کے ساتھ ہی اسی چارپائی پر بٹھا لیا۔اور میری کوشش کے باوجود مجھے نیچے نہ بیٹھنے دیا۔یہ کپڑے گھر کے دُھلے ہوئے تھے۔انہیں استری کرنا تو درکنار سُوکھنے کے بعد جو بعض مستورات ڈنڈے سے گوٹ دبا کرئہ بٹھا لیتی ہیں۔ایسا بھی نہیں کیا گیا تھا۔آپ نے قمیص پر گھلا کوٹ پہنا۔پھر پگڑی باندھنا شروع کر دی۔پگڑی کے کچھ حصے میرے بیٹھنے پر میرے نیچے آگئے تھے۔جب پگڑی میرے نیچے سے نکلی تو میں بہت شرمندہ ہوا۔لیکن مولوی صاحب کچھ نہیں۔کچھ نہیں۔کچھ نہیں۔فرماتے ہوئے پگڑی لیٹتے ہوئے جمعہ کے لئے جانے کو دروازے سے باہر نکلے۔میں آپ کے پیچھے جارہا تھا۔راستہ میں اور احباب بھی ساتھ شامل ہو گئے۔بقیہ حاشیہ: اور صدرانجمن احمدیہ کے کارکن کے طور پر ایک عرصہ تک کام کرتے رہے تقسیم ملک کے وقت ہجرت کر کے کوئٹہ چلے گئے۔اور وہیں بتاریخ / ۲۴۸ وفات پائی ( الفضل ۱۹ ص ۷ ) سلسلہ سے محبت رکھنے والے اور دعا گو بزرگ تھے بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔