اصحاب احمد (جلد 3) — Page 36
۳۶ آپ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میری موجودگی میں کسی نے حضرت خلیفہ اول سے آپ کے مطب میں دریافت کیا کہ پردے کے لئے بُرقعہ کیسا ہونا چاہیئے۔آپ نے کسی کو اپنے گھر بھیجوایا اور کہا کہ والدہ عبدالحی ( آپ کے اہل بیت) کا بُرقعہ لے آؤ۔حضرت اماں جی آپ کے اہل بیت نے کہا کہ مجھے تو آپ نے کوئی برقعہ بنا کر نہیں دیا ہوا۔اور لٹھہ کی ایک کھلی چادر لا کر دے دی۔حضرت مولوی صاحب نے یہ چادر اس طرح اوڑھی کہ تمام بدن۔چھاتی وغیرہ چُھپا کر اور سر سے کچھ گھنڈ نکال کر بتایا۔میرے نزدیک تو ہماری مستورات کو باہر نکلتے وقت اس طرح پردہ کر لینا چاہیئے۔بعد ازاں حضور نے اماں جی کو معمولی سادہ سفید لٹھے کا برقعہ بنوا دیا تھا۔آپ یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ امرتسر میں ایک متمول مشخص ملامتی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ایک دفعہ قادیان میں حضرت خلیفہ اول سے انہوں نے آکر ملاقات کی تھی۔اور حضور نے ان کی ایک کاروائی پر انہیں نصیحت کی تھی کہ انسان کو منافق نہیں ہونا چاہیئے۔ایک دفعہ انہوں نے مجھے ایک مکتوب دکھایا۔جس میں حضرت مولوی صاحب نے انہیں اس رنگ میں نصیحت فرمائی ہوئی تھی کہ آپ فلاں معزز قوم کے فرد ہیں جو وعدے کے بڑے پکے ہوتے ہیں۔اور نصیحت کے طور پر چند پنجابی بیت بھی رقم فرمائے تھے۔ان میں ایک بیت یہ تھا۔تلکن بازی ویرا اے دنیا منهل سنجل کے چلنا اے آخری شعر یہ تھا۔نوردین نمانیاں او ہو چنگیاں جیہڑیاں لنگھ ایتھوں ہوشیار کیاں حضرت خلیفہ اول و حضرت صاحبزادہ صاحب کا ورود امرتسر آپ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ بمشورہ جماعت حضرت خلیفہ اول کو امرتسر میں مولوی محمد علی صاحب ایم اے کے خسر کے خسر با بوصفدر جنگ صاحب کے ہاں بوجہ وسعت مکان اتارا گیا۔آپ کا وہاں پوری طرح خیال نہ رکھا جا سکا۔اور آپ کو تکلیف