اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 278 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 278

۲۷۸ (۴) تقسیم ملک کے وقت جو قیامت منظر حالات رونما ہوئے۔اس وقت جو احباب پھر بھی خدمت سلسلہ میں جُٹ گئے۔ان کی خدمات نہایت قابلِ قدر ہیں۔محترم خاں صاحب بھی ایسے احباب میں سے تھے۔میزانیہ صدرانجمن احمدیہ پاکستان بابت ۴۹ - ۱۹۴۸ء کی عرض داشت“ کا ایک حصہ حالات کی وضاحت کرنے کے لئے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے: وو وسط اگست سال گذشتہ کے بعد ہی دشمن اسلام نے جوشر انگیزیاں کیں اس کے نتیجہ میں جہاں اور لاکھوں اسلام کے نام لیواؤں نے نقصان اٹھایا وہاں ہم پر بھی ایسے مظالم ڈھائے گئے۔کہ مجبوراً ہم میں سے ایک بڑی جماعت کو جو ہمارے مقدس مرکز میں رہا کرتی تھی۔وہاں سے نکلنا پڑا۔تقسیم پنجاب کے فیصلہ کے معا بعد ہی حالت یہ ہوگئی کہ ہمارے مقدس مرکز کو تمام دنیا تو الگ۔قریب قریب کے گاؤں سے بھی کاٹ دیا گیا۔ریل گاڑی پہلے ہی بند کر دی گئی تھی۔ڈاک بھی بند کر دی گئی۔تار بھی کاٹ دی گئی۔اور ٹیلیفون سسٹم بھی بند کر دیا گیا۔کچھ دن ہوائی جہاز کے ذریعہ ڈاک آتی جاتی رہی۔لیکن پھر جہازوں کا آنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔اور حالت ایسی ہو گئی کہ جیسے پرانے زمانے میں سمندر میں ایک کشتی کے سواروں کی خیال کی جاسکتی ہے۔جب کہ اس کشتی کے اردگرد سمندری درندے منڈلا رہے ہوں حتی کہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ قادیان سے باہر جا کر ایسی سبیل کریں کہ ان درندوں سے بھی نجات ملے اور کشتی بھی ساحل پر لگے۔پس حضور ۳۱ اگست کی شام کو ساڑھے چار بجے کے قریب لاہور تشریف لے آئے دوسرے دن صبح گیارہ بجے جو دھامل بلڈنگ میں جہاں آج کل ہمارے دفاتر ہیں حضور نے چند احباب کو طلب فرمایا اور اس وقت کے حالات کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں ایک علیحدہ صدرانجمن قائم کی جائے اور ذیل کے احباب کو ان کا ممبر