اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 279 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 279

۲۷۹ مقرر فرماتے ہوئے ہدایات دیں کہ یہاں پر دفاتر کس طرح کام کریں: نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب ا۔ناظر اعلیٰ ۲۔ناظر بیت المال خاں صاحب منشی برکت علی صاحب۔۔۔۳۔ناظر دعوت تبلیغ نواب محمد دین صاحب قادیان میں وسط اگست ۱۹۴۷ء تک ہماری مالی حالت بہت ہی گر گئی۔کیونکہ قادیان میں شروع اگست سے باہر سے کوئی رقم نہ آنے دی گئی۔اس لئے دفتر محاسب۔۔۔کی ایک شاخ لاہور میں کھلوادی گئی۔لیکن یہاں بھی فسادات کی وجہ سے نہ تو ڈاک کا خاطر خواہ انتظام تھا اور نہ ہی آمد و رفت کا اور جب یکم ستمبر ۱۹۴۷ء کو صدرا مجمن احمدیہ پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو آمد دس اور پندرہ روپیہ روزانہ رہ گئی تھی۔حالانکہ قادیان میں اوسط آمد عام حالات میں اڑھائی ہزار روپیہ روزانہ سے بھی اوپر تھی ہی ہے۔" بہر حال قیام صدرانجمن احمد یہ پاکستان پر صدر انجمن احمد یہ پاکستان ی: دیگر ناظر وارکان میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانصاحب شیخ بشیر احمد صاحب (ایڈوکیٹ لاہور ) مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے محمد صدیق صاحب (حال انچارج خلافت لائبریری ربوہ ) ملک سیف الرحمن صاحب ( حال مفتی سلسلہ ربوہ ) مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب ربوہ وغیرہ تھے۔محترم مرزا عبدالحق صاحب ایڈوکیٹ (حال امیر جماعت ہائے سابق پنجاب و بہاولپور ) آخری قافلہ میں بتاریخ ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء قادیان سے گئے تھے۔۳ اکتوبر کو قادیان پر حملہ کے بعد ایک مکتوب قلمی حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے نام موصول ہوا تھا ( جو افسوس کہ ان کے پاس اب محفوظ نہیں) جو میں نے بھی پڑھا تھا۔اس میں ذکر تھا کہ کس طرح صدرانجمن احمدیہ کی آمد ایک یا دو صد ر و پیر ماہوار رہ گئی ہے۔قادیان وغیرہ سے جو احباب ہجرت کر کے آتے ہیں ان کے کھانے وغیرہ کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے۔بہت مشکل پیش آرہی ہے۔اور اب اضلاع سیالکوٹ وغیرہ میں بعض احباب کو بھجوایا گیا ہے تا جماعتوں کو تلقین کریں کہ وہ چندے بھجوائیں۔