اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 235 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 235

۲۳۵ وجہ سے کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔اور ان کی موجودگی میں ہمارا گھر ایک بہشت کا نمونہ بنا ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی خر بت پر اور ان کے ساتھیوں کی خر بت پر جو بہشتی مقبرہ میں لیٹے ہوئے ہیں۔ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل کرے اور اُن کو اپنے قرب خاص میں جگہ دے۔آمین ہے محترم خاں صاحب کی مالی خدمات اور سلسلہ کی بغیر معاوضہ خدمت کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمگیر جنگ دوم کے باعث حد درجہ کی مہنگائی اور بوجہ ہجرت از قادیان مال و متاع سے محرومی کے باوجود پنشن پر گزارہ۔ان سب میں آپ کے اہل بیت اپنی سادگی پسندی تقطف اور للہیت کی وجہ سے برابر کی شریک تھیں۔اور ہر طرح آپ کی معین و مددگار تھیں۔آپ نے ۱۹ دسمبر ۱۹۲۸ء کو ۱٫۸ حصہ کی وصیت حق صدر انجمن احمدیہ کی۔آپ کا وصیت نمبر ۲۹۲۰ تھا۔الفضل ۱۴، ۱۵ جنوری ۱۹۵۰ء، ۱۶ جون ۱۹۵۱ء واصحاب احمد جلد سوم ( ص ۱۰) طبع اول سے یہ حالات مرتب کیئے ہیں۔مقبرہ بہشتی میں کتبہ کی عبارت یوں ہے۔اس عبارت کی منظوری حضرت خاں صاحب نے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے حاصل کر لی تھی۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وجه ربك ذو الجلال والاکرام عزیزہ بیگم صاحبہ زوجه خان صاحب منشی برکت علی صاحب سابق امیر جماعت احمد یہ شملہ و جوائنٹ ناظر بیت المال صد را منجمن احمدیہ۔مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیہ تھیں۔۱۹۰۶ ء میں حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔۲۱ دسمبر ۱۹۴۹ء مطابق ۲۸ صفر ۱۳۶۹ھ کو بھمر تقریباً ۶۶ سال را ولپنڈی میں فوت ہوئیں اور جمعه واقعه ۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ء کو یادگار بہشتی مقبرہ قادیان واقعہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔انا لله وانا اليه راجعون