اصحاب احمد (جلد 3) — Page 236
۲۳۶ قلمی و لسانی جہاد میں شرکت اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت سلطان القلم مسیح موعود علیہ السلام کی فوج ظفر موج میں شامل ہو کر محترم خاں صاحب کو قلمی جہاد میں شریک ہو کر قابل قدر خدمات کا موقعہ عطاء ہوا۔نیز لسانی جہاد کا بھی حضور کے عہد مبارک میں تین مضمون و تقاریر بدر میں شائع ہوئیں۔اسی مبارک عہد میں آپ نے چھ تقاریر شملہ میں کیں۔جو خلافت اولی میں کتا بچوں کی شکل میں شائع ہوئیں۔خلافت اولی و ثانیہ میں بھی آپ نے قلمی و لسانی خدمات کی توفیق پائی ہے۔بعض تالیفات وغیرہ کا ذکر قدرے تفصیل سے کیا جاتا ہے: قدامت روح و مادہ اور تناسخ “۔اس نام کی اس موضوع پر آپ کی تصنیف کے 66 متعلق علامہ حضرت سید محمد اسحاق صاحب اپنی معرکۃ الآراء کتاب " حدوث روح مادہ کے دیباچہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص اس مسئلہ کی تحقیق بطور خود کرنا چاہے۔اس کے بقیه حاشیه مرحومه بود وصال صد وصف احمدی در کار خیر مستعد مجتبر زز شر - صبر و وفا غنا و قلات زوصف او ساده مزاج وصاف دل زکیر کے خیر پر نور باد مرقوش از نور کریگار۔یا صد ہزار رحمت۔خلاق بود بر۔اے خدا بر تربت او بارش رحمت پیار۔داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم - معلوم ہوتا ہے کہ آپ زبانی تقریر نہیں کرتے تھے بلکہ مضمون تحریر کر کے اسے پڑھ دیتے تھے۔(۱) حقوق انسانی اس کا ذکر روایات میں ہوا ہے۔(۲) مسئلہ تقردیه بدر ۲۸ نومبر ۱۹۰۷ء) سوا چار کالم پر مشتمل یہ تقریر بمقام شملہ ہوئی تھی۔(۳) ”موت بدر ۳۰ جنوری (۱۳۰۶ فروری ۱۹۰۸ء گویا متواتر تین نمبروں (پرچوں) میں یہ مضمون شائع ہوا۔(۴) مضمون ”حقیقت معجزه ، وتشحید الاذهان نومبر و دسمبر ۱۹۰۸ء۔(۶۵) قدامت روح دما دہ اور تناسخ “ اور گوشت خوری کے متعلق آپ کی تین تین تقاریر ۱۹۰۴ء میں بمقام شملہ ہو ئیں۔(۷ تا ۹) ضرورت نبی۔انتخاب خلافت اور اصول قرآن فہمی ، آپ کی تصانیف ہیں۔اور اسلام بذریعہ تبلیغ پھیلایا بزور شمشیر ایک تقریر جو بصورت کتاب شائع ہوئی۔(۱۱،۱۰) اسلام اور سیاسی حکومت پر آپ نے ایک مضمون جلسه پیشوایان مذاہب میں پڑھا ( مندرجہ الفضل ۲۱ ،۲۳ نومبر ۱۹۴۳ء) ذکر حبیب پر آپ کی تقریر اس کتاب میں درج ہو چکی ہے۔