اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 211 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 211

۲۱۱ رکھتی۔اس لئے مامورانِ الہی گوا کیلے ہوتے ہیں۔مگر چونکہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔اور وہ اللہ کی باتیں پیش کرتے ہیں اسلئے ان کو دنیا کے تمام لوگوں پر فوق ہوتا ہے۔اس کے بعد جو لوگ یکے بعد دیگرے ان کے ساتھ شامل ہوتے جاتے ہیں۔گووہ تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں۔مگر چونکہ ان کے ساتھ اللہ اور اس کا رسول ہوتا ہے۔اس لئے وہ غلبہ کا حکم رکھتے ہیں۔جب ہم مومنوں اور منکروں کا مقابلہ کریں تو ضرور قلت کو کثرت پر ترجیح دیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر بتایا ہے کہ نیکو کار اور دیندار بندے ہمیشہ تھوڑے ہوتے ہیں۔اور بدوں کی خواہ کتنی ہی کثرت ہونیکو کاروں پر انہیں اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی عزت نہیں۔مگر اختلاف کی صورت میں جب ہم (ایک جماعت کے ) ہر دو گروہوں کے افعال اور معتقدات پر جدا گانہ فیصلہ چاہیں تو ضرور کثرت رائے اختیار کرنی پڑے گی۔یہ غلط اصول ہے کہ ہر حالت میں اور ہر زمانہ میں قلت کو کثرت پر ترجیح ہوتی ہے۔اور اس پر بے فائدہ زور دیا جاتا ہے۔قلت اسی حالت میں فوق رکھتی ہے جب اللہ اور رسول کی معیت میں ہو۔یعنی جب وحی الہی ان کے ساتھ ہو اور مقابلہ مخالفین سے پڑے ورنہ دوسرے اوقات میں جماعت کے افراد یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔اور متنازعہ فیہ مسائل میں کثرت رائے کو ترجیح دینی پڑے گی۔” میرے خیال میں یہ بھی غلط ہے کہ صادقین شروع میں تھوڑے ہوتے ہیں۔اور بعد ازاں غلبہ پا جاتے ہیں۔غلبہ کے یہ معنے تو ہو سکتے ہیں کہ وہ دینداری اور نیکوکاری میں بہتر ہوں اور دلائل سے مخالفین پر بھاری ہوں۔مگر یہ نہیں کہ تعداد میں ان سے بڑھ جائیں یہ بے شک مقدر ہے کہ بالآخر مومنین اور صادقین تعداد کے لحاظ سے بھی فوق لے جائیں۔مگر اس کے لئے لمبا عرصہ درکار ہے۔ابھی تک اسلام کے پیرومردم شماری کی رپورٹوں کی رو سے بعض دیگر مذاہب کے پیرووں سے کم ہیں اور احمدی تو