اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 210 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 210

۲۱۰ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے وقت خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم ولائیت میں تھے اور انہیں غالبا یہ حسرت تھی کہ وہ تفرقہ کے وقت یہاں ہوتے تو نتیجہ وہ نہ ہوتا جو ہوا۔چنانچہ ولائیت سے آکر انہوں نے بڑی شدومد کے ساتھ مخالفت جاری رکھی۔اور پیغامیوں نے اپنا جلسہ سالانہ قادیان کے جلسہ کے مقابل پر انہی تاریخوں میں لاہور میں منعقد کیا اور خواجہ صاحب نے اختلاف کے متعلق ایک کتاب لکھی تھی۔وہ احباب میں مفت تقسیم کی گئی اور تحریک کی گئی کہ احباب لاہور کا جلسہ دیکھ کر قادیان جائیں یا کم از کم ایک دن کا جلسہ ہی سُن لیں۔لیکن سوائے شاذ و نادر کے کوئی احمدی ان کے جلسہ میں شامل نہیں ہوا۔دونوں جلسوں کے بالمقابل ہونے سے یہ ظاہر ہو گیا کہ کثرت سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔میں نے خواجہ صاحب کی کتاب پڑھی تو دل میں امنگ پیدا ہوئی کہ خلیفہ کے انتخاب کے متعلق کم از کم مسئلہ کثرت وقلت پر ایک مختصر سا مضمون ان آیات کے ماتحت لکھوں وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَ يَتَّبِعُ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْ مِنِيْنَ نُوَلِّهِ مَاتَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مُصِيرًا (سورۃ نساء) مگر یہ مضمون آہستہ آہستہ اس قدر طویل ہو گیا کہ اخبار میں چھپ نہ سکا۔آخر کار جلسہ سالانه ۱۹۱۵ء پر انتخاب خلافت کے نام سے ایک رسالہ کی شکل میں چھوا دیا۔اور تقریباً پانچ سو کا پہیاں اس کی جماعت میں مفت تقسیم کیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ یہ مت خیال کرو۔کہ جسقد رلوگ اس وقت بیعت سے باہر ہیں۔وہ سب ضدی اور متعصب ہیں بلکہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور اگر ان پر حقیقت آشکار ہو جائے تو وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔اس رسالہ میں میں نے سب سے زیادہ قلت اور کثرت کے مسئلہ پر بحث کی ہے اور میری مد نظر وہی لوگ تھے جن کی طرف حضور کا اشارہ تھا اور میں نے لکھا کہ : ذات باری تعالیٰ کے مقابلہ میں دنیا کی مخلوق کچھ حقیقت نہیں