اصحاب احمد (جلد 3) — Page 209
۲۰۹ مولوی عمر الدین صاحب کا انجام مگر مولوی عمر الدین صاحب کی طبیعت میں بحث مباحثہ میں مشغولیت کی وجہ سے ایک قسم کی رعونت اور خود پسندی آگئی تھی۔اور ان کی حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ سے گفتگو بھی بعض دفعہ بحث کا رنگ اختیار کر لیتی تھی۔جس سے ان کے دل میں زنگ لگ گیا۔چنانچہ وہ نظام سلسلہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جماعت میں حضور کے خلاف خیالات کی اشاعت کرنے لگ گئے۔یہاں تک کہ بعد میں بعض معاملات میں انہوں نے حضور کے حکم کی صریح نافرمانی کی آخر حضور نے طویل انتظار کے بعد جب ان کی طرف سے اصلاح کی امید نہ رہی۔ان کو جماعت سے خارج کر دیا۔مولوی عمر الدین کا خیال تھا کہ بعض لوگ ان کے ہم خیال ہیں بلکہ ایک موقعہ پر انہوں نے مجھ سے کہہ بھی دیا یہ مت سمجھو کہ جماعت سے اگر میں نکل گیا تو اکیلا نکلوں گا۔مگر اخراج کے بعد انہیں معلوم ہو گیا کہ جماعت کو حضور سے حد درجہ کی وابستگی ہے اور ان کا یہ خیال ایک باطل خیال تھا۔کیونکہ اخراج کے بعد ان سے کسی نے پوچھا تک نہیں کہ تم کون ہو اور جماعت نے اس طرح انہیں متروک کر دیا کہ گویا وہ جماعت میں کبھی تھے ہی نہیں وہ پہلے جماعت کے ساتھ ملتے رہے اور نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھتے رہے آخر جب دیکھا کہ جماعت میں ان کی کوئی عزت و توقیر نہیں۔اور کوئی انہیں منہ نہیں لگاتا تو انہوں نے غیر مبایعین کے گروہ کی طرف رُخ کیا۔اور ان کے صدر مولوی محمد علی صاحب کو لکھا کہ مسئلہ نبوت اور کفر و اسلام کے متعلق میرا آپ سے اختلاف ہے۔کیا اس صورت میں بھی مجھے آپ اپنے ساتھ شامل کر سکتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا تشریف لائیے۔چنانچہ اب وہ غیر مبایعین کے اول درجہ کے مبلغ ہیں۔اور اپنے پہلے خیالات کے خلاف غیر مبایعین کے خیالات کی تبلیغ کرتے ہیں۔مجھے اس پر کسی حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں ناظرین خود غور کر سکتے ہیں کہ کبرو خود پسندی اور دنیا کا لالچ انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتا ہے ہو۔مولوی عمر الدین صاحب ۱۹۵۷ء سے پانچ سال قبل بڑی حسرت ویاس اور کس مپرسی کی حالت میں علاقہ بمبئی میں وفات پاچکے ہیں۔(مؤلف)