اصحاب احمد (جلد 3) — Page 206
۲۰۶ اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ا۔حضرت مولوی صاحب کو اختلاف کا علم تھا۔۲۔حضرت مولوی صاحب حضرت خلیفہ ثانی سے متفق تھے۔۳۔خواجہ صاحب کے ہم خیال لوگوں کو اپنا مخالف جانتے تھے۔۴۔ان کا یہ یقین تھا کہ جو احمدی مخلص ہو گا۔وہ ضرور خواجہ صاحب کے خلاف اور حضرت خلیفہ ثانی کے ساتھ ہو گا لا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات اور جماعت شملہ جب مارچ ۱۹۱۴ ء میں حضرت خلیفہ اول کے وصال کی خبر بذریعہ تار شملہ میں آئی۔تو نماز جنازہ کے بعد میں نے دوستوں کو سمجھایا کہ یہ ہمیں معلوم ہے کہ جماعت میں اختلاف ہے۔اور اختلاف کی حالت میں یہ ناممکن ہے کہ خلیفہ کے انتخاب کے متعلق اتفاق رائے ہو۔پس ہمیں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نمونہ پر قدم مارتے ہوئے اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیئے کہ جدھر کثرت رائے ہو ہم اُدھر ہو جائیں۔بظاہر معاملہ مولوی محمد علی صاحب ، صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب وغیرہ کے درمیان معلوم ہوتا ہے۔پس ان میں سے کوئی بھی ہو جس کی طرف کثرت رائے ہوگی ہم اس کو قبول کر لیں گے۔دوستوں نے اس تجویز کو پسند کیا۔اگلے روز قادیان سے تار موصول ہوئی کہ رائے عامہ سے حضرت میاں صاحب خلیفہ منتخب ہوئے ہیں۔میں نے اسی وقت دوستوں کے مکانوں پر جا کر بیعت کے لئے دستخط کرالئے۔جو لوگ لاہوری عمائد کی طرف مائل تھے انہوں نے مخالفت کی۔مگر میں نے سمجھایا کہ اس وقت تو ہمیں زیادہ حالات معلوم نہیں۔صرف اتنا جانتے ہیں کہ کثرت رائے حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف ہے جس وقت مخالف تفصیلات آئیں۔تو ممکن ہے کہ ہم میں سے بعض تردد میں پڑ جائیں اس لئے فوراً بیعت کر لینی چاہیئے۔آخر بڑی رڈوکر کے بعد انہوں نے بھی دستخط کر دیئے۔دوسرے دن صبح ہی مخالفین کی طرف سے ”ضروری اعلان اور دیگر کا غذات کی بھر مار آئی۔جن میں حضرت خلیفہ ثانی کے خلاف لوگوں کو بہت بُری طرح مشتعل کرنے کی "