اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 207 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 207

۲۰۷ کوشش کی گئی تھی۔چنانچہ کئی دوست متذبذب ہو گئے۔اور دوڑے دوڑے میرے پاس آئے کہ ابھی بیعت کا خط نہ بھیجنا۔چنانچہ میں نے وہ خط روک لیا اور جن لوگوں نے شرح صدر سے آپ کی اطاعت قبول کی ان کی طرف سے بیعت کا خط لکھ دیا۔اب گویا آیت وَمَنْ ہوا كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ کے ماتحت جماعت دو فریق میں ہوگئی۔ایک خلافت حقہ کے ماننے والے اور دوسرے انکار کرنے والے یعنی غیر مبایعین اور ان دونوں میں خلیفہ کے انتخاب کے متعلق بحث مباحثہ شروع ہو گیا۔میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا کہ انتخاب صحابہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ پر صحیح ہے۔غیر مبایعین کے سرغنہ مولوی عمر الدین صاحب تھے مگر وہ ہمیشہ اصول انتخاب کو نظر انداز کر کے کفر و اسلام کی بحث چھیڑ دیا کرتے تھے۔اس تفرقہ کے چند روز بعد غیر مبایعین کی طرف سے لاہور سے جماعت شملہ کے پریذیڈنٹ کے نام تار آیا کہ لاہور میں تمام جماعتوں کے اہل الرائے کے مشورہ سے فیصلہ کیا جائے گا۔اس لئے جماعت شملہ کی طرف سے نمائندہ بھیجا جائے۔میں نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا جو ہونا تھا ہو چکا اب کسی مزید کاروائی کی ضرورت نہیں اور نہ ہمیں جماعت کی طرف سے کسی نمائندے کے بھیجنے کی ضرورت ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے غیر مبایعین کی اس مجلس شوریٰ میں صرف ساٹھ کے قریب نمائندگان جمع ہوئے جنہوں نے اپنی طرف سے مختلف مقامات کے لئے چار پانچ خلفاء مقرر کئے۔مگر خدا کی شان تھوڑے ہی عرصہ میں یہ سب خلیفے ختم ہو گئے اور صرف خلافت حقہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کی گئی تھی قائم رہی اور اب تک خدا کے فضل سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے ساتھ قائم ہے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سوائے اس خلافت حقہ کے جس قدر خلافتیں تھیں وہ سب مٹ گئیں اور خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ اسکی مقرر کردہ خلافت حقہ مشتبہ رہے۔اسی زمانہ میں مولوی عمر الدین صاحب نے میرے خلاف اخبار ”پیغام صلح میں ایک مضمون شائع کرایا جس میں ظاہر کیا کہ میں نے خدانخواستہ چالاکی سے دوستوں سے بیعت کے دستخط کرائے تھے وغیرہ وغیرہ میں نے اس کا جواب لکھ کر ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کو بھیجا کہ اگر واقعی آپ کا اخبار اسم بامسمی ہے اور آپ اسلام کے مختلف فرقوں میں