اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 196 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 196

۱۹۶ (۱۴): غالباً ۱۹۰۴ء میں شیخ محمد حسین صاحب ریٹائرڈ سب جج نے شملہ میں دوستوں کو یہ واقعہ سنایا کہ ایک ہندو بنام چھینکن پنجاب سیکریٹریٹ میں ملازم تھا۔اس کو مسمر یزم میں بڑا دخل تھا۔وہ بعد ازاں تبدیل ہو کر شملہ سیکریٹریٹ میں چلا گیا تھا۔اس نے اپنے دوستوں کے اصرار پر قادیان میں جا کر حضور پر اپنا عمل کرنا چاہا۔حضور دوستوں کی مجلس میں تشریف فرما تھے۔وہ بھی آکر ایک کنارے پر بیٹھ گیا۔اور اپنا عمل شروع کیا۔تھوڑی دیر کے بعد حضور نے اس کی طرف دیکھا کہ وہ نیا شخص کون ہے۔آگے آجائے ، چنانچہ وہ آگے آگیا۔تو حضور نے فرمایا کہ دیکھو ہم تمہیں ایک قصہ سناتے ہیں۔ایک دفعہ ایک جنگل بیابان میں ایک شیر تھا۔جب حضور نے شیر کا نام لیا تو وہ قدرے پیچھے ہٹ گیا۔حضور نے فرمایا کہ آگے آؤ پیچھے کیوں ہے ہو۔چنانچہ جب وہ آگے آیا تو حضور نے پھر ذکر شروع کیا۔لیکن پھر وہ شیر کا نام سنتے ہی ذرا اور پیچھے ہٹ گیا۔آخر تیسری دفعہ جب حضور نے یہ ذکر سنانا شروع کیا تو وہ شیر کا نام سنتے ہی بھاگ گیا۔اور اس نے واپس جا کر دوستوں کو بتا یا کہ مرزا صاحب کے سامنے دال نہیں گلتی۔چنانچہ جب وہ شیر کا نام لیتے تھے تو میں ڈر کر بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا۔اور مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شیر واقعی مجھ پر حملہ کرنے لگا ہے۔بعد میں تیسری دفعہ آپے سے باہر ہوکر میں بھاگ آیا۔(۱۵): غالباً ۱۹۰۴ء میں جب کہ کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے لارڈ کرزن کے ذریعہ تقسیم بنگالہ ہوئی اور اس کا بڑا چرچا تھا ہے۔ملک میں ایک شور مچا۔جابجا ہڑتالیں ہوئیں۔بنگالی لوگ پہلے غیر منقسم صوبہ کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔کیونکہ اس طرح ان کی مجموعی قوت کمزور ہوتی تھی۔حضور کی ہدایت کے ماتحت ہم نے بھی شملہ میں ایک جلسہ کیا اور بقیہ حاشیہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک انگریزی کا رسالہ جاری کرنیکا اعلان کیا۔اور پھر مزید مشورہ سے ایک انگریزی رسالہ اور حضور کے کتب کے انگریزی تراجم شائع کرنے کیلئے انجمن اشاعت اسلام قائم کی گئی جس کے لئے دس ہزار روپیہ فراہم کرنے کے لیئے دس دس روپے کے ایک ہزار حصص فروخت کئے جانیکا فیصلہ ہوا۔آپ کے خرید حصص کا یوں اندارج ہے۔بابو برکت علی صاحب (یعنی شملہ ) ۵ ( یعنی حصص ) کے ی صحیح سن ۱۹۰۵ء ہے۔