اصحاب احمد (جلد 3) — Page 195
۱۹۵ ہندوستان میں اخبارات اور کتب کے ذریعہ احمدیت کی تبلیغ ہورہی ہے۔اسی طرح امریکہ اور یورپ میں بھی ہونی چاہیئے۔چنانچہ اس مقصد سے آپ نے ریویو آف ریلیجز انگریزی وارد و کا اجراء فرمایا۔اس کا اجراء ابتداء بطور تجارت کے ہوا تھا۔اور پانچ پانچ روپے کے حصے مقرر ہوئے تھے۔میں نے بھی دس حصے خرید کئے تھے۔کچھ عرصہ بعد آپ نے فرمایا۔یہ روپیہ در حقیقت کچھ بھی نہیں۔اور اگر خدا تعالیٰ دوستوں کو حوصلہ اور ہمت دے تو وہ نفع کا خیال چھوڑ دیں اور یہ رقوم بطور امدا در سلسلہ کو دیدیں۔چنانچہ دوسروں کی طرح میں نے بھی نفع کا خیال چھوڑ کر اپنے پچاس روپے بطور امدادر سلسلہ کے پاس رہنے دئے۔سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ عاجز بھی ریویو آف ریچز کے اجراء میں شامل ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب ہماری جماعت کے سرگرم رکن تھے۔خلافت ثانیہ کے وقت وہ الگ ہو گئے۔وہ چیف کورٹ کے مشہور وکیل تھے۔اور بہت ذہین تھے۔بالعموم ایسا ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دو باتیں لیں اور اس پر اچھا خاصہ لیکچر تیار کر لیا۔حضور فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ صاحب فصیح البیان ہیں۔خواجہ صاحب نے انہی دنوں میں اردو اخبار وطن“ لاہور کے مالک سے بات چیت کر کے یہ تجویز کی کہ اگر ریویو آف ریلیچز کے دو حصے ہو جائیں یعنی ایک حصہ میں محض اسلام کا ذکر ہو۔احمدیت یا صداقتِ مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر نہ ہو۔دوسرے حصہ میں احمدیت یا صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہو تو اخبار وطن کا مالک اس رسالہ کی اشاعت میں مدد دے گا۔خواجہ صاحب نے جب حضور کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی تو آپ نے فرمایا : خواجہ صاحب یہ تو غور کریں کہ میرے ذکر کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کریں گے۔“ خواجہ صاحب اپنی تقریروں میں احمدیت کا نام نہ لیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ نب ولایت گئے تو انہوں نے کہا کہ یہاں احمدیت کا نام لینا سم قاتل ہے۔غرض ریویو آف ریلیچز کا اجراء اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے متعدد ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں ہے۔: مغربی ممالک میں اسلام کی آواز پہنچانے کے لیئے احباب سے مشورہ کے بعد ۱۵ جنوری ۱۹۰۱ء کو