اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 172 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 172

۱۷۲ ایک دفعہ قادیان میں آپ کو درد گردہ ہوا۔تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ہومیو پیتھک دوائی ٹنکچر پیر برا بر ہوا استعمال کر نیکی ہدایت فرمائی۔اس سے تین پتھریاں خارج ہوئیں اور پھر کبھی یہ تکلیف نہ ہوئی۔درد گردہ کے بعض مریضوں کو حضور فر مایا کرتے تھے کہ شیخ فضل احمد صاحب کو ایک دوائی میں نے بتائی ہوئی ہے۔ان سے پوچھ لیں۔دراصل یہ حضور کی ذرہ نوازی تھی تا کہ ایک شفایاب مریض سے مل کر وہ زیادہ مطمئن ہو جائیں۔ورنہ دوائی تو خود حضور بھی بتا سکتے تھے۔نومبر ۱۹۵۷ء میں آپ کو بندش پیشاب کی تکلیف ہو گئی۔اور ایک ماہ سے زائد عرصہ تک صبح و شام کی تھیڑا کے ذریعہ پیشاب خارج کر وایا جاتا تھا۔تمام ڈاکٹری علاج بے نتیجہ رہے اور آپ اس قدر کمزور ہو گئے کہ بغیر سہارے کے آپ کروٹ بھی نہیں لے سکتے تھے۔چہ جائیکہ ڈاکٹری مشورہ کے مطابق اپریشن کے لیے آپ کو لاہور لے جایا جاتا۔بعض ڈاکٹر صاحبان نے اپنے اس خیال کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ ایک دو دن سے زیادہ یہ زندہ نہیں رہ سکیں گے۔اور اب کسی علاج یا پر ہیز کی ضرورت نہیں ہے۔بیڈ سور کی تکلیف بھی ہوگئی تھی۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت کہ تد بیر جاری رکھنی چاہیئے۔ہومیو پیتھک علاج شروع کر دیا گیا مگر آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر روپے پیسے انسان کو موت سے بچاسکیں تو بادشاہ کبھی نہ مریں۔اور اگر ڈاکٹر موت سے بچا سکتے ہوں۔تو وہ خود اور ان کے خاندان کے لوگ کبھی نہ مریں مگر یہ تقدیر خدا تعالیٰ چاہے تو دعا سے ٹل سکتی ہے۔آپ کو حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہ جہانپوری ( اللہ تعالیٰ حضرت حافظ صاحب کی عمر میں برکت دے) سے بہت محبت تھی اور دوسرے کام چھوڑ کر بھی ان بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض حاصل کیا کرتے تھے۔جب بیماری طویل ہوگئی اور آثار نومیدی ظاہر ہونے لگے۔تو ایک دن آپ نے