اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 171 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 171

121 حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف ( رضی اللہ عنہ ) نے آپ کو اپنے دفتر میں لگا لیا۔آپ وہاں ۱۹۳۶ء سے جنوری ۱۹۴۱ء تک کام کرتے رہے اور پھر ۱۹۵۰ء تک صیغہ امانت میں غرضیکہ اس طرح آپ کو ۱۵ سال کے طویل عرصہ تک پنشن کے بعد سلسلے کی خدمت کرنے کا موقع بھی ملا۔جسے ,, آپ نے نہایت دیانت داری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔۱۹۴۷ء میں قادیان سے ہجرت کے وقت آپ کو ایک اہم ذمہ داری سپرد ہوئی۔یعنی لاکھوں روپے کی مالیت کے زیورات جو لوگوں نے بطور امانت صدر انجمن احمد یہ میں جمع کروائے ہوئے تھے انہیں پاکستان لانا تھا۔اور کوئی یقینی انتظام موجود نہ تھا۔آپ ان زیورات کے بکسوں کو صبح کے وقت دفتر سے لاتے اور کسی ٹرک میں جگہ نہ ملنے پر نا کام واپس لے جاتے۔یہ دن رات آپ نے نہایت پریشانی اور دعاؤں میں گزارے نہ ہی کسی کو اپنا ہمراز بنا سکتے تھے۔آخر کئی دن کے بعد ایک ٹرک میں جگہ ملی۔اس میں ریسرچ کی کتب اور دوسرے سامان کے بکس بھی چڑھا دیے گئے یہ خاص مشیت ایزدی تھی۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی دعاؤں کا عجیب نشان، جب اس قافلہ کی تلاشی لی گئی۔اور سامان کھلوانے کے لئے جس ٹرنک کو بھی ہندوستان ملٹری نے کھلوایا۔اس میں ریسرچ کا سامان ہی نکلا۔اور اس طرح معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی۔کہ ان امانتوں کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خواہش کے مطابق بحفاظت پاکستان میں منتقل کر سکیں۔جن لوگوں نے وہ مصیبت نہیں دیکھی۔وہ ان حالات کا اب قیاس بھی نہیں کر سکتے۔آپ کی دیانتداری کی ایک مثال میاں روشن دین صاحب زرگر کا ہزاروں روپے کا سونا بغیر کسی تحریر کے دینا اور پاکستان میں آپ کا اسے واپس کرنا اور اصرار کے باوجود کوئی معاوضہ قبول نہ کرنے کا ذکر مکرم محمد شفیع صاحب اسلم کے مضمون میں آچکا ہے۔