اصحاب احمد (جلد 3) — Page 163
۱۶۳ کی تدفین ہوئی بوقت وفات آپ کی عمر ۸۵ سال تھی۔" آپ کی پیدائش ۱۸۸۳ء میں بٹالہ ضلع گورداسپور میں ہوئی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری والدہ مرحومہ سنایا کرتی تھیں کہ میں تمھارے والد کی دوسری بیوی تھی۔پہلی بیوی کی اولا دلڑ کیاں ہی لڑکیاں تھیں۔میرے ہاں بھی پہلی ولادت لڑکی ہوئی تمھارے والد نے اپنے مرشد ( جو پیر رنڑاں چھتڑاں والے کے نام سے مشہور تھے اور دھرم کوٹ رندھاوا میں رہتے تھے۔ان کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کی ہے ) کی خدمت میں اولاد نرینہ کے لیے درخواست دعا پیش کی تو انھوں نے بعد دعا بتلایا کہ تمھیں ایک ایسا لڑکا ملے گا جو بڑی عزت اور برکت پائے گا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ خاکسار کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت اور غلامی سے وہ عزت اور برکت مل گئی جس کی انھیں خبر دی گئی تھی۔آپ چھ سال کے تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا آپ کی والدہ مرحومہ نے آپ کو تعلیم دلائی۔اور آپ پندرہ برس کے تھے کہ والدہ بھی گند وفات پائیں۔190 ء میں آبزرور پریس لاہور میں آپ پروف ریڈر کے طور پر ملازم ہو گئے۔وہاں محترم ڈاکٹر محمد طفیل صاحب نے آپ کو تبلیغ کی اور ریویو آف ریلیچز کا ایک پرچہ پڑھنے کے لئے دیا۔اس کا اثر آپ کی طبیعت پر ایسا پڑا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ ریویو میرے نام پر جاری فرمایا جائے۔چنانچہ حضور نے گزشتہ سب پرچے ( ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۴ء تک ) آپ کو بھجوا دیئے ان کو پڑھنے کے بعد آپ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔قبول احمدیت کے بعد ۱۹۰۶ء میں جب آپ اپنی ملازمت کے سلسلہ میں انبالہ چھاؤنی میں مقیم تھے حضرت چوہدری رستم علی صاحب نے آپ کو سیکرٹری تبلیغ بنا دیا اور تبلیغ کرنے کی ہدایت فرمائی۔اس طرح آپ کو احمدیت کی تعلیم کے گہرے مطالعہ کا موقع