اصحاب احمد (جلد 3) — Page 149
۱۴۹ احمد یہ سٹور یہ اراضی کس سے خریدی تھی تو میں کیا جواب دوں گا۔اور ثبوت نہ دے سکا تو وہ مجھ پر مقدمہ بنادے گا کہ یہ خود اپنی ملکیت ثابت نہیں کر سکتا۔اس لئے اس کو جواب دہ ہونا ہوگا۔کہ یہ اراضی کسی غیر کی تو نہ تھی جو اس نے نیلام کردی۔میں نے جب اس معاملہ کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے سامنے رکھا اور عرض کیا کہ مجھے اپنی رقم کا تو فکر نہیں۔فکر اس امر کا ہے کہ کہیں مجھ پر مقدمہ ہی نہ بن جائے۔آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے اور مجھے اس غم سے عزت کے ساتھ خلاصی بخشے۔آپ نے دعا کا وعدہ فرمایا اور میں کاغذات احمد یہ سٹور لے کر جھنگ گیا افسر نے حالات سُن کر ابھی یہ فیصلہ کرنا ہی چاہا تھا کہ صدر انجمن احمدیہ کا ریکارڈ پیش کریں کہ اتفاق حسنہ سے میری بحیثیت مینیجر احمد یہ سٹور کاپی پیش کی گئی۔اور اس نے بغیر پس و پیش کئے اسے درست تسلیم کر کے مجھے گیارہ صد روپیہ کی ڈگری دے دی جس وقت وہ افسر حکم لکھ رہا تھا میں محو حیرت تھا کہ اگر اس نے صفحہ الٹ کر دیکھا اور بحیثیت مینیجر میرے دستخط اور مہر کو دیکھا تو ممکن ہے اس کے دل میں خیال آئے کہ اصل مالک سے ملکیت کا ثبوت مہیا کیا جائے مگر تصرف الہی نے اسے ایسا کرنے سے روکے رکھا۔میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ربوہ آکر میں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو یہ واقعہ سنایا تو آپ نے نہایت خوشی سے فرمایا کہ آپ کے ساتھ وہی معاملہ ہوا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش آیا تھا۔جب مرزا امام دین صاحب نے مسجد مبارک کے سامنے دیوار بنادی تھی۔اور الہام ہوا تھا کہ چکی چلی اور فتح ہوئی۔۱۹۵۲ء میں خاکسار نے ارادہ کیا کہ جو اراضی دو قطعے دارالرحمت شرقی میں میری خرید کردہ ہے کہ اس پر مکان تعمیر کروں۔لیکن اس قدر روپیہ نہ تھا۔سوارادہ کیا کہ ایک قطعہ فروخت کر دوں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں میں نے اس کا ذکر کیا۔آپ کے دریافت کرنے پر عرض کیا کہ اس ایک کنال کے قطعہ کی قیمت اٹھارہ صد روپیہ کے قریب مجھے مطلوب ہے۔فرمایا یہ تو زیادہ قیمت ہے۔عرض کیا کہ دعا فرمائیں کہ مجھے اتنی رقم مل جائے۔آپ نے قطعہ دیکھ کر دعا کا وعدہ فرمایا۔اور اللہ تعالیٰ نے چند روز میں پونے انیس سوروپیہ میں اس کی فروخت کا سامان کر دیا۔اور اس سے مجھے تعمیر مکان کی توفیق عطا کی۔فالحمد للہ علی ذالک۔