اصحاب احمد (جلد 3) — Page 146
۱۴۶ بعد پنشن خدمات سلسلہ اور رزق غیب کا سامان آپ رقم فرماتے ہیں: ” غالباً آخر ۱۹۳۴ء میں مجھے لاہور چھاؤنی تبدیل کر دیا گیا۔بار بار کے تبادلوں سے میری طبیعت اُکتا گئی تھی۔میں چاہتا تھا کہ کسی طرح مجھے پنشن مل جائے اور میں قادیان میں بقیہ زندگی گزاروں۔سو اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کردی اور میں طبی لحاظ سے نا قابل ملازمت قرار دیا جا کر لاہور چھاؤنی سے غالب ستمبر ۱۹۳۵ء میں قبل سبکدوشی طویل رخصت پر اپنے گھر قادیان آگیا۔مجھے یاد ہے کہ میں نے کمرہ بند کر کے دعا مانگی کہ انہی! تو مجھے اپنے رحم خاص سے میری خواہش کے مطابق قادیان لے آیا ہے۔اب ایک اور نظر رحم کر کہ مجھے کسی کے در پر رزق اور ملا زمت وغیرہ کے لئے جانا نہ پڑے حتی کہ خلیفہ کے در پر بھی نہ لے جائیو۔اور اپنے فضل سے میرے رزق کے سامان کر یو۔دعا کے بعد میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو ایک احمدی بھائی کو کھڑے پایا۔جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی چٹھی لائے تھے۔جس میں مرقوم تھا کہ آپ مجھے کسی وقت آکر ملیں۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈالی کہ یہ قبولیت دعا کا نشان ہے۔ملاقات میں آپ نے فرمایا کہ میں احمد آباد سنڈیکیٹ کا سیکرٹری ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے دفتر میں کام کریں۔میں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ تعمیل ارشاد کی۔مجھے علاوہ پنشن کے ۳۰ روپے ماہوار الاؤنس ملنے لگا۔نیز مجھے احمد یہ سٹور کا مینجر مقرر کیا گیا اور پندرہ روپے الاؤنس مقرر ہوا۔اور مجھے اتنی ہی آمدنی ہونے لگی جتنی پنشن سے پہلے تھی۔الحمد للہ کہ اللہ تعالٰی نے دعائن کر میری دستگیری فرمائی۔“ احمد آبادسنڈیکیٹ میں ۱۹۳۶ء اور چند ماہ ۱۹۳۷ء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب