اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 147 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 147

۱۴۷ کے ماتحت اور پھر جنوری ۱۹۴۱ء تک محترم خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے ماتحت میں نے کام کیا۔حضرت میاں صاحب نے اگر کبھی ایک لفافہ بھی ذاتی طور پر کسی کے نام لکھا تو اپنے پاس سے ڈاک خرچ دیا اور اپنا حساب اتنا پاک صاف رکھا کہ مجھے اس پاکیزگی کا علم ہو کر بے حد خوشی ہوئی۔اور کیوں نہ ہو آخر کس کے صاحبزادے تھے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے! سبحان اللہ ! فروری ۱۹۴۱ء میں محترم مرزا شفیع صاحب محاسب صدر انجمن احمدیہ نے بطور نگران افسر امانت مجھے لگانا چاہا۔۱۹۴۲ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مجھے علاقہ ناگپور میں پنڈھورنا مقام پر بھجوا دیا۔۱۹۵۰ء میں مجھے افسر امانت بنا دیا گیا ہے۔اس وقت مکرم مرزا عبد الغنی صاحب مرحوم محاسب تھے۔چونکہ آنکھوں میں موتیا بند اتر رہا تھا اس لئے ۱۹۵۰ء میں ہی درخواست دے کر میں نے فراغت حاصل کر لی اور چنیوٹ میں خانہ نشین ہو گیا۔گویا ۱۹۳۶ء سے ۱۹۵۰ء تک خدمت کی توفیق پائی۔اس فراغت کے باعث میری آمدنی یکدم بہت کم ہو گئی۔مگر اللہ تعالیٰ نے میرے بھانجے عزیزم سلیم اللہ خان سلمہ کے دل میں ایسی محبت ڈال دی کہ انہوں نے ماہوار تھیں روپے بھیجنے شروع کر دئے اور اس کے علاوہ بھی امداد کی۔اس طرح غالباً ایک ہزار روپیہ یا اس سے زیادہ کی امداد کی۔اللہ تعالیٰ اس کے مال۔اولاد۔ایمان اور عزت میں ترقی بخشے اور ہر طرح اس کا حافظ و ناصر ہو آمین۔غرض میرے مولا نے جس کی نسبت کسی نے کہا ہے۔ع چویک در به بند و گشاید دگر میرے حال پر رحم کھا کر اس طرح اپنے فضل کا دروازہ کھول دیا۔پھر اپنے رحم سے میرے لڑکے عزیز مبارک احمد سلمہ کو میٹرک کر کے ایک سو روپیہ ماہوار کی ملازمت دلا دی۔غرض کچھ پنشن کچھ عزیزوں کی طرف سے رقم ملنے لگی۔اور خدا تعالیٰ کے رحم نے میری دستگیری کی اور میری ماہوار آمد کافی ہو گئی۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عملہ محاسب میں میزانیہ ۴۹ - ۱۹۴۸ء تا ۵۱۔۱۹۵۰ء میں اور صیغہ امانت میں میزانیہ ۵۲-۱۹۵۱ء میں آپ کا نام درج ہے۔