اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 144 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 144

۱۴۴ پر ایک ہزار روپیہ دیتے ہیں کہ وہ پچھلا حساب دیں۔اور آپ جا کر اور کوئی کام نہ کریں محض اُن سے حساب لے کر پڑتال کریں۔اور ہمیں رپورٹ کریں۔آج سے آپ اُن کے ماتحت نہیں رہیں گے۔براہ راست ہمارے ماتحت ہوں گے۔اور ہمارے احکامات کی تعمیل کریں گے۔ورنہ یہ ایک ہزار روپیہ آپ سے لیا جائے گا۔میں روپیہ لے کر آگرہ پہنچا اور چوہدری صاحب کو حضرت کا ارشاد سُنایا اور حساب مانگا۔انہوں نے مجھے کاغذات حساب دے دیئے۔جو میں نے پڑتال کر کے حضرت کے حضور پیش کئے تو مشکل حل ہوگئی۔حسابات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ حضرت چوہدری صاحب موصوف کی اپنی رقم بھی خرچ ہو چکی ہے۔جو چوہدری صاحب کو یاد نہیں رہی تھی۔اور وہ رقم میں نے ان کو واپس دلائی۔یک صد سے زیادہ تھی۔انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک احمدی دوست کسی گاؤں میں ملکانہ کی شدھی روکنے کے لئے متعین تھے۔وہاں دیو بند کے علماء کی طرف سے کوئی چپڑاسی یا چوکیدار بھی تھا۔جو ہمارے مسلمانوں کو جوش دلا کر جھگڑا پیدا کر دیتا تھا۔مجھے چوہدری صاحب موصوف نے حکم دیا کہ میں دہلی جا کر مولانا کفایت اللہ صاحب سے جو علماء دیو بند کے سرگر وہ تھے ملوں اور ان سے ذکر کروں کہ وہ اپنے آدمی کو سمجھا دیں کہ وہ ہمارے کام میں رکاوٹ نہ ڈالے۔میں دہلی پہنچا وہاں ایک احمدی دوست عبدالرحمن صاحب فرنیچر ڈیلر کو ہمراہ لے کر مولانا صاحب سے ملاقات کی وہاں مولانا سعید احمد صاحب یا احمد سعید صاحب سے بھی ملا۔مولانا کفایت اللہ صاحب نے حالات سن کر مولوی سعید احمد صاحب کو کہا کہ اپنے آدمی کو تنبیہ کریں کہ وہ جھگڑا نہ کریں۔انہوں نے مجھے فرمایا کہ فلاں بازار میں ہمارا دفتر ہے اور فلاں مولوی صاحب دفتر کے انچارج ہیں۔آپ ان کو یہ رقعہ دے دیں ہم دونوں وہاں جانے لگے تو مولانا احمد سعید صاحب کہنے لگے کہ یہ شدھی کا قصہ ختم ہوئے تو ہم تمام احمدیوں کے خلاف ایک محاذ قائم کریں گے۔اور آپ لوگوں کی ایسی خبر لیں گے کہ آپ کو ہوش آ جائے گی۔میں نے جوش سے عرض کیا کہ مولانا ہم تو خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مخالفت میں سارا زور لگا لیں اور پھر آپ بھی دیکھیں گے اور ہم بھی دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کس کی مدد کرتا ہے۔مولانا کفایت اللہ صاحب بھی میری بات سُن رہے تھے۔مگر انہوں نے کوئی بات نہ