اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 143 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 143

۱۴۳ رہا۔فالحمد للہ۔آگرہ جانے کے لئے میں قادیان پہنچا۔حضرت امیر المومنین کے ارشاد پر آگرہ گیا۔تو حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے جو ملکانہ کیمپ کے انچارج تھے۔مجھے حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب۔اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے ساتھ ریاست بھرت پور بھیجا۔جہاں دونوں بزرگوں نے مہاراجہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔میں ان کے ہمراہ رہا۔اور مفت کا ثواب حاصل کیا۔ہندو وزیر اعظم نے بڑی عہد شکنی کی تھی اور بے اعتنائی بھی۔آگرہ میں چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے پاس کچھ نہیں تھا۔اور وہ روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت تنگ تھے۔مجھے انہوں نے قادیان بھیجا کہ میں ان کی طرف سے عرض کروں کہ روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف ہے۔حضور اخراجات کیمپ کے لئے مزید رقم عنایت کریں۔حضرت نے مجھے فرمایا کہ چوہدری صاحب پہلے روپیہ کا حساب دیں کہ کہاں کہاں خرچ ہوا۔پھر ہم مزید رقم دیں گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور وہ تو سخت تنگ آئے ہوئے ہیں۔حضور ضرور کچھ رقم عنایت فرما ئیں۔حضرت نے فرمایا کہ ہم اس شرط : دوسری سہ ماہی کے پہلے وفد میں شیخ فضل احمد صاحب ہیڈ کلرک راولپنڈی کا نام درج ہے۔یہ وفد ۲۰ جون ۱۹۲۳ء کو بعد نما ز عصر روانہ ہوا۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصره حسب دستور سابق بیرونِ قصبہ تک الوداع کہنے کے لئے تشریف لے گئے۔قادیان کے قریباً تمام احمدی احباب ساتھ تھے۔حضور نے ارکان وفد کے لئے تقریر فرمائی اور دعا کی۔اور سب سے ہاتھ ملا کر رخصت کیا۔اس فہرست کے ۲۱۔احباب قادیان سے روانہ ہوئے اور باقی آگرہ پہنچ چکے ہیں !! حضور کا یہ خطاب تین صفحات پر درج ہے ایسی نصائح فرمائی ہیں کہ ہدایات پر عمل کئے بغیر فائدہ مرتب نہیں ہوتا بہت سی چھوٹی باتیں بڑا ثر رکھتی ہیں۔مومن بزدل نہیں ہوتا۔خود فساد کھڑا نہ کرو۔افسروں کی کامل اطاعت کرو۔لوگوں سے میل ملاقات کی عادت ڈالو تبلیغی مقام نہ چھوڑو۔جس جگہ متعین ہو اس کے ماحول کو بھی اپنا ہی علاقہ سمجھو۔آریوں کے ایجنٹوں سے ہوشیار رہو۔دعاؤں پر خاص زور دو۔معترض کو عام فہم جوا۔دو۔لوگوں سے ہمدردی کرو۔اپنی کارگزاری کی یاداشت رکھو۔پہلے مبلغین کا جنہوں نے سخت مشکلات میں کام کیا شکر گذار بنو۔۱۲