اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 142 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 142

۱۴۲ مجھے خیال آیا کہ خود پیشاب کر کے دیکھوں۔میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب کہ پیشا خود ہی خارج ہو گیا۔اور بعد ازاں باقاعدہ آنے لگا۔فالحمد للہ علی ذالک۔میرے دل پر یہ غالب اثر ہے کہ یہ حضور کی قبولیت دعا کا نشان تھا۔جس میں دوسرے بزرگوں کی دعائیں بھی شامل تھیں۔انہی ایام میں ایک روز حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی تشریف لائے۔حالات سُن کر دعا کی جس کے دوران میں اللہ اکبر کا نعرہ زور سے ان کی زبان سے بلند ہوا۔اور آپ نے بتایا کہ میں نے دعا کے دوران دیکھا کہ آپ کو فرشتے نور کے پانیوں سے غسل دے رہے ہیں۔جس سے مراد غسل صحت نکلا۔فالحمد لله جہاد ملکانہ میں شرکت ۱۹۲۳ء میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا ارشاد پہنچا کہ احمدی احباب رخصت لے کر آگرہ آجائیں۔جہاں آریہ قوم نے بہت سے مسلمانوں کو شدھ کر لیا ہے۔مجھے اس ارشاد کے ملنے سے خوشی بھی ہوئی لیکن فکر بھی۔اس وجہ سے کہ کوہ مری میں اکیلا میں کمانڈنگ افسر میجر برائٹسن کے ساتھ تھا اور دفتر کا کام کمان افسر صاحب خود نہ کرتے تھے۔ان کا کام محض دستخط کرنے کا تھا۔میں نے ڈرتے ڈرتے افسر موصوف سے ذکر کیا کہ یہ مذہبی معاملہ ہے اور میرے مُرشد کا حکم آیا ہے کہ میں بھی آگرہ جاؤں اور ایک ماہ تک وہاں کام کروں۔افسر نے کہا کہ آپ کے سوا اور کوئی کلرک بھی یہاں نہیں دفتر کا کام کون کرے گا۔میں نے کہا مجبوری ہے۔یہ مذہبی معاملہ ہے۔افسر نے سوچ سوچ کر کہا اچھا چلے جاؤ۔مگر اس شرط پر کہ مجھے ضرورت پڑے گی تو آپ کو تار دیا جائیگا۔آپ کو واپس آنا ہوگا۔میں نے کہا کہ اگر آپ نے مجھے واپس بلایا تو کرایہ آمد و رفت آپ کے ذمہ ہونا چاہیئے۔افسر نے یہ منظور کر لیا۔سو میں آگرہ گیا۔اور واپس بلایا گیا۔اپنے مرشد کی فرمانبرداری کے نتیجہ میں میں نے کام کا ثواب بھی حاصل کر لیا اور میرا خرچ کچھ بھی نہ ہوا۔بلکہ سفر الاؤنس کی وجہ سے مجھے فائدہ بقیہ حاشیہ: اور ۷ انومبر کے پرچہ میں افاقہ کا اور ۲۱ نومبر کے پرچہ میں بندش پیشاب اور اسہال میں اضافہ ہو کر نقاہت بہت بڑھنے کا۔