اصحاب احمد (جلد 3) — Page 90
۹۰ ہیں۔مثلاً آپ بیان کرتے ہیں : (1): ایک جلسہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ہوا تھا حضرت خلیفہ اول غالباً ایک چارپائی پر تشریف رکھتے تھے۔اور حضرت میاں صاحب نے کوٹ پہنے کا ارادہ کیا تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت خلیفہ اول آپ کو کوٹ پہنے میں مدد دے رہے ہیں۔یہ نظارہ مجھے یاد ہے۔(۲): غالبا ۱۹۱۳ء میں حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں خاکسار آپ کے دولت خانے میں حاضر تھا۔اتنے میں حضرت میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی) جو اُن دنوں میاں صاحب کہلاتے تھے۔آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ کی آمد پر حضرت خلیفہ اول اپنی جگہ سے پہلے جیسے کوئی معزز مہمان کے لئے جگہ خالی کرتا ہے۔اور خود سرک کر تھوڑا پرے ہو جاتا ہے۔حضور نے ایسا کیا۔ایسی عزت افزائی آپ کو کسی اور کی کرتے میں نے نہیں دیکھا۔چونکہ میں حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بہت حاضر ہوتا رہا ہوں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں که دیگر افراد جو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے ہیں۔میری اس بات کی تصدیق کریں گے۔(۳):۶، ۷ مئی ۱۹۱۱ء کو احمد یہ انجمن بٹالہ کا پہلا سالانہ جلسہ تھا۔مکرم شیخ محمد عبد الرشید صاحب نے مجھے قادیان میں پیغام بھیجا کہ ہمیں یہ اطلاع تو مل چکی ہے کہ حضرت میاں صاحب ( یعنی حضرت خلیفۃ اسیح الثانی) امرتسر سے بٹالہ آئیں گے۔(آپ امرتسر میں اپنے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اسٹنٹ سرجن سول ہسپتال امرتسر کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ) اور جلسہ میں ایک تقریر کریں گے۔احباب کی خواہش ہے کہ ایک کی بجائے یہ دونوں دن حضرت صاحبزادہ صاحب کی زیر صدارت جلسہ ہوا جس کے اہتمام میں حضرت شیخ عبدالرشید صاحب اور حضرت ڈاکٹر ماسٹر محمد طفیل صاحب کا خاص حصہ تھا۔دیگر تقاریر حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، سردار محمد یوسف صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی وغیرہ ھم کی ہوئیں حضرت صاحبزادہ صاحب کی تقریر اول حقیقی مذہب کونسا ہے۔“ پر تھی اور۔جس قابلیت اور مؤثر طریق پر آپ نے اس مضمون کو ادا کیا وہ آپ ہی کا حق تھا اور حصہ تھا۔دوسری۔ضرورت الہام پر تھی یہ مضمون ایسے مؤثر اور پُر جوش طریق سے پیش کیا گیا کہ بعض آنکھیں بے اختیار پر نم تھیں۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا گویا حاضرین ایک سکتہ کے عالم میں ہیں سے