اصحاب احمد (جلد 3) — Page 89
۸۹ افسر مذکور نے مجھے ہی ملازم رکھا۔جب کہ اس اسامی کے لئے دوسرے لوگ بڑی کوششیں کر رہے تھے۔کیمل کور میں ہم دو ہی کلرک تھے اور پچاس پچاس روپے مشاہرہ پاتے تھے۔دوسرے سردار ہری سنگھ ساکن پنڈی گھیپ تھے جو اکا ؤنٹنٹ کا کام کرتے تھے۔اور میں باقی کا کام جو ہیڈ کلرک کا ہوتا ہے۔اس افسر کے زمانہ میں میں نے بہت آرام پایا۔مگر اس کے ماتحت ایک لفٹینٹ پر تھی سنگھ جو راجپوتانہ کے کسی ہندو سردار کی اولاد سے تھے۔تبدیل ہو کر آگئے یہ شخص بڑا متعصب تھا۔اور مجھے نفرت سے دیکھتا تھا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی سکھ ہمارے مکان میں سے گذرتا ہے۔میری بیوی صحن میں بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے بار بار گذرنے سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔مگر پھر وہ ایسا گیا کہ پھر نہ آیا۔میں نے اس خواب کی تشہیر کی اور بتایا کہ یہ لیفٹینٹ مذکور کے متعلق ہے۔تھوڑے عرصہ کے بعد میجر ہرنگٹن کی جگہ میجر وارڈل تبدیل ہو کر آگئے۔اُن کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ ڈاک وغیرہ لیفٹینٹ صاحب کھولا کرتے ہیں کہنے لگے۔کہ آئیندہ سے میری ڈاک میری میز پر رکھا کریں۔اور اس کو نہ دیں میرے اس حکم کی تعمیل کرنے پر لیفٹینینٹ پر تھی سنگھ کو بہت دکھ پہنچا۔اور وہ ایک سال کی رخصت پر چلا گیا۔واپس آیا تو کہنے لگا کہ ہم فضل احمد کی خبر لیں گے۔یہ تو کہتا تھا میں واپس نہیں آؤں گا مگر دیکھ لو میں آگیا ہوں۔اس کی خواب غلط نکلی ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ابھی چند ہی روز گذرے تھے کہ فیلڈ پر جانے کا حکم میرے ذریعہ میجر وارڈل صاحب نے اسے بھجوایا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے اسے دور کر دیا۔اور اپنی بشارت پوری کر دی۔حضرت خلیفہ اول کی طرف سے حضرت صاحبزادہ صاحب کا اکرام آپ بیان کرتے ہیں کہ میں اُس خطبہ جمعہ میں موجود تھا جس میں حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ سلیمان تونسوی بائیس ۲۲ سال کی عمر میں خلیفہ ہوئے اور اٹھہتر سال انہوں نے خلافت کی۔(مفہوم) یہ خطبہ آپ نے غالباً غیر توسیع شدہ مسجد اقطے میں دیا تھا۔حضرت خلیفہ اول حضرت صاحبزادہ صاحب ( خلیفہ ثانی) کا بہت احترام فرماتے تھے۔اور اس بارے میں مکرم شیخ فضل احمد صاحب متعدد چشم دید واقعات تحریر کرتے