اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 58 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 58

۵۸ لوگوں کے پارسل۔بوریوں اور گاڑیوں سے سامان اور پھل چوری کرتے ہو۔بلٹیوں کی رشوت لیتے ہو۔ریل گاڑی میں ٹکٹ کے بغیر سفر کرتے ہو؟ کیا آپ نے کبھی مجھے ان نا واجب امور کا مرتکب ہوتے دیکھا ہے؟ جب میرے پاس زیادہ روپیہ نہ ہو تو میں کہاں سے خرچ کروں؟ اور میں نے اور مستورات نے اپنا سامان خود اُٹھا لیا تو اس میں کون سی ذلت ہے۔تم حرام کماتے اور حرام کھاتے ہو۔لوگوں کی موجودگی میں یہ باتیں سُن کر وہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے اور نہ صرف یہ کہ اس روش سے باز آ گئے بلکہ عزت و احترام سے پیش آنے لگے۔آپ اسراف سے احتراز کرتے نہ کہ انفاق فی سبیل اللہ سے۔اس کا ذکر دوسری جگہ آئے گا۔سمہ سٹہ کے سٹیشن پر ایک فقیر نے آپ سے ایک نئی دو تہی مانگی۔آپ نے نہ دی۔لیکن پھر دیہات میں جا کر اسے تلاش کر کے اور منت سماجت کر کے دے دی۔آپ حصول مال کے ناجائز طریقوں سے قطعی مجتنب رہتے تھے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں اس زمانہ میں ریلوے سٹاف کی بہت قدر تھی۔پبلک ٹیلیگراف ڈاکخانہ میں نہ تھا۔ریلوے ٹیلیگراف ہی پبلک کے لئے بھی تھا۔موٹر کاریں اور بسیں اور ٹرک ابھی جاری نہ ہوئے تھے۔سفر اور حمل نقل کے ذرائع اندرونِ ملک میں ریل گاڑی تک ہی محدود تھے۔سٹیشن ماسٹر امراء حکام میں نہایت معزز و محترم سمجھا جاتا تھا۔نواب۔راجے اور مہاراجے ریل گاڑی سے ہی سفر کرتے تھے۔چنانچہ نواب صاحب بہاولپور نے احمد پور کے سٹیشن ماسٹر کو ذاتی استعمال کے لئے دو گھوڑوں والی ایک رفٹن مع کو چوان دے رکھی تھی۔نواب صاحب کے سفر کے لئے ریز روڈ بہ آتا۔اس موقعہ پر وہ سٹیشن ماسٹر کو پچاس روپیہ اور دیگر عملہ ریلوے کو پانچ پانچ دہ روپے دیتے۔ان حالات میں بھی بابو صاحب کی سادگی اور عدم حرص کا یہ حال تھا کہ آپ نے نواب صاحب بہاولپور کے ہاں ولی عہد کی ولادت کی تار رات کو وصول ہونے پر ایک چپڑاسی کے ہاتھ بھجوادی۔صبح کو اس بات کا علم ہونے پرسٹیشن ماسٹر حیران ہوا۔اور کہا یہ خاص تار بڑی کر و فر کے ساتھ فٹن میں جا کر پہنچانی چاہئے تھی۔چنانچہ وہ آپ کو فٹن میں لے جا کر دربار میں پہنچے۔جہان نواب کو امراء واہل کا رتہنیت دے رہے تھے۔سٹیشن ماسٹر نے نذرانہ