اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 59 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 59

۵۹ پیش کر کے مبارک باد دی اور بابو صاحب کو بھی پانچ روپے دے کر مبارک باد پیش کرنے کو کہا چنانچہ با بوصاحب کو بھی ایک پگڑی اور ایک تھال مٹھائی کا انعام ملا۔سیر چشمی۔قناعت۔سادگی اور عسر میں انفاق فی سبیل اللہ دور اول میں نادار صحابہ کرام انفاق فی سبیل اللہ کی تحریک ہونے پر محنت مزدوری کر کے جو مٹھی بھر جو یا کھجوریں ملتیں انشراح صدر اور بے پایاں مسرت کے ساتھ پیش کر دیتے تھے۔بابو صاحب کی زندگی میں اس اُسوہ حسنہ کی جھلک نظر آتی ہے۔چنانچہ آپ کے فرزند ایم بشیر احمد صاحب آپ کی سیر چشمی۔قناعت اور تنگی میں انفاق فی سبیل اللہ کے تعلق میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب دورے کر کے ضروریات سلسلہ کے لئے روپیہ احباب سے جمع کرتے تھے۔چنانچہ حضرت میر صاحب نے ایک ایسے موقعہ پر آپ سے امرتسر میں چندہ مانگا کہ آپ تہی دست تھے۔آپ نے بتایا کہ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔لیکن حضرت ممدوح تحریک کرتے ہوئے بار بار فرماتے کہ کچھ دو۔سوال و جواب ہوتا رہا۔ڈیوٹی کا وقت ختم ہونے پر آپ کو ساتھ لے کر بابو صاحب گھر پہنچے اور آٹے والا ٹین لا کر دکھایا جس میں صرف آدھ سیر کے قریب آٹا تھا اور حلفاً عرض کیا کہ ہمارے پاس یہی کچھ ہے۔حضرت ممدوح نے اپنے کپڑے میں وہی انڈیل کر قبول کر لیا۔اس گھرانے کے لئے یہ بھی بڑی قربانی تھی۔انہیں رات بغیر کھانے کے بسر کرنی پڑی۔ہو اسی طرح جب حضرت مولوی شیر علی صاحب قادیان سے لندن روانہ ہوئے تو : خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت میر صاحب قطرہ قطرہ دریا می شود کی حقیقت سے واقف تھے۔اس وقت معدودے چند افراد کے سوا ساری جماعت ہی غرباء پر مشتمل تھی۔خاکسار کو یاد ہے کہ ایک دفعہ آپ ۱۹۱۸ء کے لگ بھگ پاک پتن (ضلع منٹگمری) تشریف لائے۔حضرت چوہدری غلام احمد خاں صاحب مرحوم ایڈوکیٹ صدر جماعت کے ہاں ملاقات کے لئے محترم والد صاحب جاتے ہوئے مجھے بھی ساتھ لے گئے۔میں نے والد صاحب سے کہا کہ مجھے بھی کچھ دیں تو میں پیش کروں۔چنانچہ انہوں نے مجھے ایک آنہ دیا۔میری عمر پانچ سال کی تھی۔حضرت میر صاحب کھانا تناول کر کے ہاتھ دھو رہے تھے۔بعد فراغت آپ نے ایک آنہ مجھ سے قبول فرمایا۔