اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 51 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 51

۵۱ بھاری بھر کم مولوی صاحب کی کلائی مضبوطی سے پکڑ کر کہا کہ حضرت مرزا صاحب کے نزدیک حدیث شریف میں مذکور دجال کا گدھا یہی ریل گاڑی ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم کہ اپنے علم کی رُو سے بتائیں کہ دجال کا گدھا کیا ہے۔مولوی صاحب نے ٹیلیفون کے متعلق بات کر کے ٹالنا چاہا۔انگریز اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کے دریافت کرنے پر میں نے اسے یہ سوال و جواب بتایا تو اس نے بھی مولوی صاحب سے دریافت کیا۔لیکن وہ کچھ نہ بتا سکے۔البتہ ایک روز راستے میں مل گئے تو کہنے لگے۔بابو صاحب ! اچھے آدمی ہیں۔آپ کے اخلاق اچھے ہیں۔آپ مجھے اچھے تو لگتے ہیں۔لیکن مجھے دُکھ ہوتا ہے۔آپ کو بندگی کہوں یا رام رام کہوں؟ میں نے ہنس کر کہا کہ آپ تصدیق کرتے ہیں کہ میں اچھا آدمی ہوں۔میرے اخلاق اچھے ہیں۔لیکن میری احمدیت کیوجہ سے آپ کو دُکھ ہے اور میری اچھائی احمدیت ہی تو ہے۔مجھے آپ کے دُکھ پر آپ سے ہمدردی ہے۔بندگی وغیرہ کہنے پر آپ کو کس نے مجبور کیا ہے؟ آپ کو یہ دُکھ کیوں ہے؟ کہنے لگے۔بابو صاحب ! چھوڑیں۔آپ تو فلسفہ اور دلائل چھیڑ بیٹھے ہیں۔میں نے تو یونہی بات کی تھی۔آپ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ اسلامیہ ہائی سکول امرتسر کے ایک سالانہ جلسے میں مولوی صاحب مذکور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ نظم سُریلی آواز سے پڑھی۔جمال وحسنِ قرآں نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے میں کھڑا ہو گیا اور پوچھا کہ یہ اشعار رکن صاحب کا کلام ہے۔سوال سُن کر پہلے تو مولوی صاحب نے تقریر شروع کر دی۔لیکن ایک دو منٹ بعد کہا کہ ایک مرزائی دوست نے سوال کیا ہے۔میں اس مرزائی دوست کی خوشی کے واسطے کہتا ہوں۔کہ یہ نظم مرزا صاحب آنجہانی کی کہی ہوئی ہے۔لیکن یہ انہوں نے اس وقت کہی تھی جب وہ ہمارے تھے۔ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ نظم براہین احمدیہ میں شائع ہوئی تھی۔جب حضور کا ابھی دعوئی مہدویت ومیسحیت نہیں تھا۔گویا یہ اس امر کا اقرار تھا کہ حضور کی ذات سے مخالفین کو عداوت ہے ورنہ حضور کی تحریرات و دلائل کا سکہ بیٹھ چکا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ ہال بازار میں جہاں کرموں ڈیوڑھی کا بازار شروع ہوتا