اصحاب احمد (جلد 3) — Page 46
۴۶ کے لئے علاقہ بیٹ میں گئے۔ایک پٹواری کی شرانگیزی سے مخالفین نے زدوکوب کیا۔لیکن آپ نے صبر سے کام لیا اور معینہ مدت پوری کر کے واپس لوٹے۔پھر اس پٹواری کی تعیناتی آپ کے سرال کے علاقہ میں ہوئی تو وہاں کے احمدی زمینداروں نے پٹواری سے انتقام لینے کا ارادہ کیا لیکن بابو صاحب نے نہ صرف اجازت نہ دی بلکہ سختی سے انہیں منع کر دیا اور فرمایا یہ اس کی نادانی تھی۔میں نے اُسے معاف کر دیا ہے اس کا اُس پر بہت اثر ہوا اور وہ سخت نادم ہوا۔قادیان میں تعیناتی کے دوران آپ کے اعلیٰ نمونہ سے متاثر ہوکر اسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر پنڈت رگھبیر چند اسلام کے گرویدہ ہو گئے تھے۔اور حضرت منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی سے انہوں نے سبقا سبقا قرآن مجید پڑھا۔پیر محمد اقبال صاحب سٹیشن ماسٹر سناتے ہیں کہ والٹن ٹرینگ سکول میں بابو صاحب کی تبلیغ کے نتیجہ میں میں نے اور میرے خاندان کے بیس پچیس افراد نے بیک وقت احمدیت ☆ قبول کر لی تھی۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد پر عمل پیرا تھے کہ تقویٰ کی باریک را ہیں اختیار کرو۔معلوم نہیں تم کس راہ سے قبول کئے جاؤ۔آپ محکمہ ریلوے کے قوانین کی سختی سے پابندی کرتے تھے اور اس محکمہ کے مفاد کا پورا خیال رکھنا فرض جانتے تھے۔چنانچہ باوجود یکہ قادیان کا ریلوے سٹیشن چھوٹا سا تھا اور اسکے پلیٹ فارم ٹکٹ کی ضرورت نہ تھی۔لیکن قادیان کی شہرت کی خاطر اور اس لئے کہ نوجوان طبقہ اسٹیشن پر آکر بلا مطلب گھومتا نہ رہے۔آپ نے پلیٹ فارم ٹکٹ جاری کروا دیا تھا۔آپ اس اسٹیشن پر بھی وقت کی پابندی کرتے تھے اور وقت ختم ہو جانے پر مال گودام بند کر دیتے اور بعد از وقت مال نہ بھرنے دیتے اور نہ ہی ڈیمریج کے بغیر چھوڑتے۔آپ دیگر ریلوے ملازمین کی طرح کبھی پہلا ٹکٹ سفر نہ کرتے۔نہ آپ کے اقارب میں سے کسی کو یہ جُرات ہوتی تھی کہ پہلا ٹکٹ سفر کر کے آپ کے پاس پہنچے۔آپ کی اہلیہ بغیر بک کرائے ایک مُرغی لے آئیں۔کھانے کے وقت گھر آئے تو علم ہوا تو فورا آپ نے اس کے کرایہ کی رسید کاٹ کر رقم ادا کر دی۔جب جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب وزیر مواصلات تھے تو ان کے آپ کے مفصل حالات کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد اول۔