اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 37 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 37

۳۷ ہوئی۔آپ نے اس امر کا اظہار بھی فرمایا کہ غیروں کے گھر میں آپ کو ٹھہرایا گیا۔اس تجربہ کے مدنظر ۱۹۱۳ء سے حج سے مراجعت پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین صاحب (بعدۂ خلیفۃ المسیح الثانی) کو حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب مس گر کے ہاں اتارا گیا۔اور بفضلہ تعالیٰ آپ جماعت امرتسر سے بہت خوش ہو کر تشریف لے گئے۔ابتداء میں جب آپ سے امرتسر میں وارد ہونے اور دعوتِ طعام قبول کرنے کی درخواست جماعت نے کی تو آپ نے معذرت کر دی۔بعدۂ جماعت نے میری تجویز پر مجھے اور محترم چوہدری اللہ بخش صاحب بعده مالک اللہ بخش سیٹم پر لیس قادیان ) کو لاہور بھجوایا۔چنانچہ حضرت میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر جہاں آپ فروکش تھے۔ہم دونوں نے ملاقات کی اور میں نے عرض کی کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی دعوت رو نہیں کی۔اس پر آپ نے فورا دعوت قبول کر لی۔اور ہم فرحاں و شاداں واپس کوئے۔اور جماعت امرتسر کو یہ مرہ دہ جانفزا سُنایا۔حمد قادیان تک ریل گاڑی جاری ہونا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو قادیان میں ریل گاڑی آنے کی خبر دی تھی۔چنانچہ میاں چراغ دین صاحب نے بیان کیا: ایک دفعہ حضوڑ میاں صاحب ( یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب۔ناقل ) کی انگلی پکڑ کر سیر کے لئے بسراواں تشریف لے گئے۔جہاں پر آج کل چھپر ہے وہاں پہنچ کر فرمایا کہ: دیکھو میاں گاڑی کی آواز آرہی ہے۔۵ پھر آپ یہ کہہ کر چل دیئے۔چنانچہ آپ ہی کے عہد خلافت میں ریل گاڑی قادیان تک جاری ہوئی۔خدا کے فضل سے آج کل یہاں گاڑی کی آواز سنائی دیتی ہے۔الحکم مورخہ ۱۴ رے جنوری ۱۹۱۳ء میں مرقوم ہے۔۱۲ جنوری ۱۹۱۳ء لا ہور آئے احباب امرتسر کے اصرار سے آپ پونے نو بجے کی گاڑی پر امرتسر اتر گئے۔وہاں بھی آپ کی تقریر ہوئی اور پھر دو بجے بٹالہ پہنچے (ص۱۰۔کا)